خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 175
خطابات ناصر جلد دوم ۱۷۵ دوسرے روز کا خطاب اار دسمبر ۱۹۷۶ء معلوم ہیں یا جو Oil Rich Sheikhdom یعنی یہ چھوٹی چھوٹی ریاستیں جہاں پٹرول تیل وغیرہ نکلا ہے اور یہ امیر ہو گئی ہیں وہاں کے بسنے والے ہیں ان میں احمدی نہیں ہیں ، غلط سمجھتے ہیں آپ۔مڈل ایسٹ کے ہر ملک کے اندر احمدی موجود ہے اور خدا کے فضل سے وہاں کے لوگ ان کی عزت کرتے ہیں اور احترام کرتے ہیں۔خدا نے ان کے اندر جو قوت اور استعداد رکھی ہے پیار کرنے کی اور نیکی کرنے کی اور بھلائی کرنے کی اور خیر خواہی کرنے کی اور بھلا چاہنے کی اور کسی کی برائی نہ چاہنے کی۔اس کی وجہ سے ان کی عزت کی جاتی ہے اور ان کا احترام کیا جاتا ہے۔پھر افریقہ ہے۔افریقہ میں تو ایک انقلاب آیا ہے۔صدیوں کے مظلوم ، ہم سے بھی زیادہ۔یہاں بھی بیرونی حکومتوں نے غیر حکومتوں نے آ کر اپنا تسلط جمایا اور ہمیں سیاسی غلام بنا کر رکھا لیکن ہم سے زیا اُن لوگوں پر ظلم ہوا۔ایک جگہ ۱۹۷۰ء میں مجھے کہنا پڑا کہ میں نے جو دیکھا اور مشاہدہ کیا ایسا ہوتا ہے کہ ,You had all,You have deprived of all تمہیں خدا نے سب کچھ دیا تھا اور سب کچھ ہی تم سے چھین لیا گیا ہے۔باہر سے آئے اور سب کچھ سمیٹ کر جھاڑو دے کر نکال کر لے گئے۔وہ لوگ مظلوم ہیں دنیوی لحاظ سے بھی مظلوم اور دین کے لحاظ سے بھی مظلوم۔اُن علاقوں میں ، مغربی افریقہ کے کئی ممالک میں ہمارا کام ہو رہا ہے اور بڑا کامیاب ہے۔لاکھوں کی تعداد میں عیسائیت اور دہریت اور بد مذہبیت سے تو بہ کر کے وہ لوگ اسلام کے جھنڈے تلے جمع ہو گئے ہیں خدا کے فضل سے احمدیت کی کوشش کے نتیجہ میں۔لاکھوں کی تعداد میں ! ( نعرے ) اس نے کہا تھا کہ خدا نے مجھے کہا ہے کہ میں تیری تبلیغ کو ، جو تفسیر قرآن کریم کی ہم تجھے سکھائیں گے اس کے ذریعہ سے تیری تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا دنیا نے کہا کہ یہ ایک آواز ہے اور ہماری اکثریت کی آواز اس آواز کو دبا دے گی لیکن خدا نے کہا کہ تمہاری اکثریت کی آواز میری آواز کو نہیں دبا سکتی ( نعرہ ہائے تکبیر اور احمدیت زندہ باد کے نعرے)۔خدا تعالیٰ نے اس قدر قرآنی علوم مہدی علیہ السلام کو سکھائے اور خدا تعالیٰ کے محبوب بندے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس روحانی فرزند کے ذریعہ سے پھر ہم نے ان علوم کو سیکھا اتنے زبر دست ہیں وہ علوم کہ میں بغیر کسی خوف و خطر کے اپنے اس دورہ میں ، جو کچھ عرصہ ہوا میں نے یورپ اور امریکہ کا کیا تھا ، ان لوگوں کو کہتا تھا کہ دیکھو میں اسلام کی تعلیم کا ایک حصہ تمہارے