خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 176 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 176

خطابات ناصر جلد دوم دوسرے روز کا خطاب ۱۱ر دسمبر ۱۹۷۶ء سامنے پیش کرنے لگا ہوں اور قبل اس کے کہ وہ پیش کروں میں تمہیں پہلے کہتا ہوں کہ تم میں سے کسی کو یہ جرات نہیں ہوگی کہ تم کہو کہ یہ تعلیم اچھی نہیں اور ہمیں قابل قبول نہیں ( نعرے) پھر وہ سنتے تھے اور سر ہلاتے تھے اور بعض سر دھنتے تھے اور کسی ایک نے بھی یہ کہنے کی جرات نہیں کی دکھاوے کے لئے بھی جرات نہیں کی کہ نہیں جی ہمیں تو یہ تعلیم منظور نہیں۔اگر کچھ کہا تو ایک جگہ مجھے شرمندہ کرنے کے لئے یہ کہا ، ایک صحافی ایک پریس کا نفرنس میں مجھے کہنے لگا کہ اتنی اچھی تعلیم ہے، اتنی حسین تعلیم ہے ، نوع انسانی پر احسان کرنے والی تعلیم ہے آپ مجھے یہ بتائیں کہ آپ نے ہمارے ملک کے عوام تک اس تعلیم کے پہنچانے کا کیا انتظام کیا ہے۔بہر حال جب خدا تعالیٰ نے اپنے آسمانی منصوبے کا اعلان کیا تو ہر دو جہان کو کہا کہ آج کے بعد تمہارے اندر جو حرکت اور تبدیلی پیدا ہوگی وہ میرے اس منصوبے کی تائید میں پیدا ہوگی میں تفصیل میں نہیں جاؤں گا اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے دعوی کے بعد انسانی زندگی میں تین بڑے انقلاب آئے۔ایک تو سرمایہ دارانہ انقلاب آیا میں اس کو Capitalist Revolution کہا کرتا ہوں۔بڑا ز بر دست انقلاب تھا، بڑا ز بر دست۔لوگ سمجھے تھے ، اس انقلاب کے بانی یہ سمجھے تھے کہ انقلاب آیا ہے اور ہم نے مسیح کے جھنڈے کو دنیا میں لہرا دیا ہے اور اس کے مطابق انہوں نے دعوی کر دیا لیکن ہوا یہ کہ یہ جو سرمایہ دارانہ انقلاب آیا اس نے مہدی معہود کی ، اس نے محمد کے مسیح کی تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچانے کا سامان کیا۔پریس بن گیا ، ہمارے کام آیا۔راستے کھل گئے ، ہم دنیا میں جا کر خدا کے نام کو بلند کرنے کے قابل ہو گئے۔ورنہ تو مجھے امریکہ پہنچنے پر کئی سال لگ جاتے۔نئے سامانوں نے دو دن میں مجھے وہاں پہنچا دیا۔وہ لوگ یورش کر کے آگے بڑھے تھے اور ان میں سے بعض اتنے دلیر اور شوخ ہو گئے تھے کہ بعض عیسائی منادوں نے کہا کہ عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ خانہ کعبہ پر خداوند یسوع مسیح کا جھنڈا لہرائے گا۔مگر محمد کے مسیح نے کہا کہ میں تمہارے دلوں سے عیسائیت کو مٹا دوں گا ( نعرہ ہائے تکبیر ) ایک کانفرنس میں مجھ سے پوچھا گیا کہ کوئی فرق کوئی تبدیلی نظر آئی آپ کو انگلستان میں، آپ اپنے طالب علمی کے زمانہ کے بعد ، لمبے عرصہ کے بعد یہاں آئے ہیں۔میں نے کہا ہاں۔تمہاری نوجوان نسلوں نے عیسائیت میں دلچسپی لینی بند کر دی۔وہ کہنے لگے کہ آپ نے کس چیز سے اندازہ لگایا۔میں نے کہا کہ اس چیز سے