خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 162
خطابات ناصر جلد دوم ۱۶۲ افتتاحی خطاب ۱۰ر دسمبر ۱۹۷۶ء تھا۔جو پتہ تھا وہ تعصب کے نتیجہ میں غلط اعتراضات کا پتہ تھا یعنی غیر مسلم لاکھوں کی تعداد میں محض اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت احمدیہ کے ذریعہ اسلام کو قبول کرر۔کر رہے ہیں۔ہمارے اجتماعات میں اب باہر سے دوست آتے ہیں اور ان آنے والوں میں بہت سے وہ لوگ ہیں یا وہ وفود ہیں جو عیسائیت سے یاد ہریت سے نکل کر خدا تعالیٰ کے جھنڈے تلے جمع ہوئے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت کے سایہ میں انہوں نے سکون اور اطمینان حاصل کیا۔ان لوگوں کے کانوں تک اسلام کی باتیں پہنچیں۔اس وقت باہر کے جو وفود یہاں بیٹھے ہیں اُن میں سے بہت سے دوست ہماری زبان نہیں سمجھتے یہ تو درست ہے لیکن وہ اتنے مشتاق ہیں ان باتوں کے سمجھنے کے لئے کہ مجھے یقین ہے اور پہلی رپورٹیں بھی یہی ہیں اور ہمارا مشاہدہ بھی یہی ہے کہ آج کا سورج غروب نہیں ہوگا کہ وہ باتیں جو اُردو زبان میں میں اس وقت آپ کے سامنے بیان کر رہا ہوں وہ پوچھ کر اپنی زبان میں جو وہ سمجھ سکتے ہیں ، اُن کا علم حاصل کر چکے ہوں گے۔پس ہم یہاں خدا اور اس کے رسول کی باتیں سننے کے لئے جمع ہوتے ہیں ایک منادی نے نداء دی اور ایک پکارنے والے نے پکارا اور اس آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنے رب کریم کی رضا کے حصول کی خاطر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا جو پیار ہمارے دلوں میں ہے اس سے مجبور ہوکر ہم یہاں آتے ہیں۔یہاں آکر بہت سے فوائد حاصل کرتے ہیں۔ایک تو یہ کہ نیکی کی باتیں اور تقویٰ کی باتیں ، اللہ کی باتیں اور رسول کی باتیں ہمارے کان میں پڑتی ہیں۔پھر آپس میں تعارف ہوتا ہے۔علاقے علاقے کے لوگ یہاں آ کر ملتے ہیں اور اُن کا ایک دوسرے کے ساتھ تعارف ہوتا ہے ہماری فضا اخوت کی بجلی سے بھری ہوئی ہوتی ہے۔بعض دفعہ بجلی بھی ہوا میں کوند رہی ہو اور بادل بہت چمکیں تو ہوا میں بجلی کی رو آ جاتی ہے لیکن یہ بہر حال ایک مادی رو ہوتی ہے۔یہاں روحانی اور اخلاقی طور پر ہماری فضا اس قسم کی اخوت کی لہروں سے بھری ہوئی ہوتی ہے جو اپنی مثال آپ ہے۔آپ بعض دوستوں سے ملتے ہیں اور بعض سے نہیں ملتے۔بہتوں کے چہرے دیکھتے ہیں ان کو پہنچانتے نہیں لیکن یہ پہنچانتے ہیں کہ ان کے سینوں میں بھی ویسے ہی دل دھڑک رہے ہیں خدا اور اس کے رسول کے پیار سے جیسے ہمارے سینوں میں دھڑک رہے ہیں۔غرض جلسہ سالانہ کی اس فضاء میں اخوت کا جذبہ بڑھتا ہے۔دوری مٹ جاتی