خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 142
خطابات ناصر جلد دوم ۱۴۲ اختتامی خطاب ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۵ء اسلامی اصول کی فلاسفی میں اس پر بحث کی ہے یہ کتاب قاری پر نہایت گہرا اثر ڈالتی ہے۔یورپ کے علاوہ جن جن ملکوں میں وہ گئی ہے لوگ اسے پڑھ کر حیران ہوتے ہیں کہ اچھا یہ اسلام ہے؟ حالانکہ وہ اسلام کی out lines ہیں۔آپ نے اسلامی اخلاق کی صرف ایک ایک مثال دے کر اس حقیقت کو بیان کیا ہے جس کے بیان کرنے کے لئے ہمیں ہزار ہا اوراق درکار ہیں لیکن وہ جو عملی زندگی ہے اس میں یہ نہیں کہ ہزار ورق کون پڑھے گا دوستوں کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کو سکھانا شروع کریں یہ کام کرنا ہے اور یہ کام نہیں کرنا۔مسجد میں اونچی آواز سے نہیں بولنا یہ مسجد کے آداب میں سے ہے غرض مسجد کے آداب ہیں۔چلنے پھرنے کے آداب ہیں۔اٹھنے بیٹھنے کے آداب ہیں۔باتیں کرنے کے آداب ہیں۔گویا انسان کا ہر فعل اور ہر حرکت اور ہر قوت کا جو مظاہرہ ہے اسے آداب کے اندر باندھ دیا گیا ہے۔مثلاً اللہ تعالیٰ نے ہمیں زبان دی تو اس کا ایک کام باتیں کرنا ہے زبان کی جو قوت ہے اس کو ادب سکھایا پھر اس کو اخلاق سکھائے۔زبان کو ایک خلق یا ایک وصف یہ سکھایا کہ وہ حرام سے لذت حاصل نہ کرے یہ اس کا ادب ہے اور زبان کو یہ بھی سکھایا کہ وہ ہمیشہ ذکر الہی کیا کرے۔ذکر الہی سے اطمینان قلب حاصل ہوتا ہے اور تعلق باللہ پیدا ہوتا ہے پھر اخلاق سے بھی اونچا درجہ روحانیت کا ہے اس لئے یہ مسئلہ بھی واضح کر دیا۔پس جیسا کہ میں نے بتایا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اخلاق دوحصوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔ایک ترک شر اور ایک ایصال خیر۔بعض اخلاق اس موضوع سے تعلق رکھتے ہیں کہ کسی کو دیکھ نہ دیا جائے یا ہر ایک کو سکھ پہنچانے کی کوشش کی جائے چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اخلاق کے متعلق جو فرمایا ہے اس میں سے ایک دو حوالے میں پڑھ دیتا ہوں اس سے یہ مضمون آپ ہی کے الفاظ میں احباب کے سامنے آ جائے گا۔میں نے بتایا ہے کہ انسان کو مختلف طاقتیں اور جوارح اور قو تیں دی گئی ہیں۔وہ جب تک مؤدب نہ ہوں اور مہذب نہ ہوں اور با اخلاق نہ ہوں وہ طبعی حالتیں ہیں جن کو نفس امارہ کھینچ کر شیطان کی طرف لے جاتا ہے چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔طبعی حالتیں۔۔۔خدا تعالیٰ کے پاک کلام کے اشارات کے موافق اخلاقی حالتوں سے کوئی الگ چیز نہیں ہے کیونکہ خدا کے پاک کلام نے تمام نیچرل قومی اور جسمانی