خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 139 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 139

خطابات ناصر جلد دوم ۱۳۹ اختتامی خطاب ۲۸ ؍دسمبر ۱۹۷۵ء اس لئے یہ کہنے کی ضرورت پڑی حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهُتُكُمْ (النساء:۲۴) وحشی عرب ماں سے نکاح کو جائز قرار دیتا ہے اس لئے ایک ہم تمہیں یہ کہتے ہیں کہ اگر تم نے انسان بننا ہے تو ماں سے شادی نہیں کرو گے۔نکاح کے سلسلہ میں اور بہت سارے قرآن کریم کے آداب سکھائے۔یہ تو پرانے زمانے کی باتیں تھیں۔چنانچہ اس زمانہ میں ایک کتاب میں لکھا ہوا جب میں نے پڑھا تو میں حیران ہو گیا کہ عقلاً اس بات پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے کہ ایک شخص اپنی ماں سے تعلقات رکھے اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (البقرة : ۳) یہ تو انسانیت کے خلاف ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والے قرآن کریم کے صریح حکم کے خلاف ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ أُمَّهُتُكُمْ (النساء:۲۴) اس صریح حکم کے بعد اس قسم کے حوالے نظر آ جاتے ہیں اس دنیا میں جس میں میں اور آپ رہ رہے ہیں۔اسی طرح لباس کے متعلق لوگوں نے عجیب و غریب قصے بنالئے ہیں حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لباس کے بارہ میں جو آداب سکھائے تھے ان کا لوگوں کو علم نہیں ہوتا۔مجھے کسی نے کہا اور یہ میری شنید ہے اس واسطے شنید ہی میں بیان کر سکتا ہوں۔میں نے سنا ہے کسی ملک کے کچھ مولوی کسی دوسرے ملک میں گئے جہاں لوگ پتلون پہن کر نماز پڑھتے تھے انہوں نے لوگوں کو نمازیں پڑھتے دیکھا تو آپس میں مشورہ کیا کہ ان کو سیدھا کرنا چاہئے کیونکہ مخنوں کے نیچے پتلونیں نہیں پہنی چاہئیں وہ ۳ ۴ مولوی تھے۔انہوں نے فیصلہ کیا کہ ایک کی ڈیوٹی لگائی جائے کہ جب لوگ نماز پڑھنے لگیں تو ایک آدمی نماز میں شامل نہ ہو بلکہ ایک سوٹی پکڑلے اور جب نماز شروع ہو جائے اور نیت بندھ جائے تو لوگوں کے ٹخنوں پر سوٹی مارے اور کہے یہ تم نے کیا کیا ہوا ہے تمہاری پتلونیں ٹخنوں سے نیچے گئی ہوئی ہیں اب وہ بیچارے نماز پڑھ رہے ہیں اور یہ بچارہ ان کے ٹخنوں پر سوٹیاں لگا رہا ہے کسی جگہ یہ ہوا کہ گھٹنوں کے اوپر تمہاری دھوتی آ گئی ہے چلو تم بھی کافر ہو گئے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لباس کے متعلق جو آداب سکھائے ہیں ان میں نہ وہ سکھایا ہے اور نہ یہ سکھایا ہے۔وہاں بھی غلط استدلال کر لیا اور یہاں بھی غلط استدلال کر لیا۔وہاں یہ کہا تھا کہ تکبر نہیں کرنا۔اس وقت عرب لوگ دولت کے غرور میں دوسروں پر رعب ڈالنے کے لئے قیمتی لباس پہنتے تھے جو زمین پر گھسٹ رہے ہوتے تھے۔اس وقت یورپ میں جن لڑکیوں کی شادیاں