خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 1 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 1

خطابات ناصر جلد دوم 1 ماں کی طرح مادروطن کے پاؤں تلے بھی جنت ہے افتتاحی خطاب ۲۶؍ دسمبر ۱۹۷۴ء افتتاحی خطاب جلسه سالانه فرموده ۲۶ / دسمبر ۱۹۷۴ء بمقام ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔ہمارے دل خُدا کی حمد سے لبریز ہیں۔گزشتہ برس ۲۶ کی صبح کو جس قدر دوست جلسہ گاہ میں موجود تھے۔اس وقت جلسہ گاہ کو دیکھ کر میرے حافظہ نے بھی تصدیق کی اور میری نگاہوں نے بھی مشاہدہ کیا ہے کہ آج پچھلے سال سے قریباً ۵۰ فیصد زیادہ دوست یہاں موجود ہیں۔فالحمد لله علی ذالک۔حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْإِيمَانِ ( موضوعات کبیر صفحه ۴۰) اپنے وطن سے محبت کرنا جزو ایمان ہے۔آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ماؤں کے پاؤں تلے جنت ہے۔اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ مادر وطن کے پاؤں تلے جنت ہے۔بعض لوگ یہ افواہیں پھیلاتے رہے ہیں کہ ہم اس جنت کو چھوڑ کر کہیں باہر جانے کا خیال رکھتے ہیں۔ہم مادر وطن کے پاؤں کی جنت سے باہر کیسے جائیں گے، جب کہ ہمارے محبوب آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طرف یہ فرمایا ہے۔حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْإِيمَانِ اور دوسری طرف یہ کہ ماں کے پاؤں تلے جنت ہے۔مادر وطن کا جو محارہ ہے۔اس میں بڑی صداقت ہے جس طرح ماں کے پاؤں تلے جنت ہے اسی طرح انسان مادر وطن میں اپنے لئے جنت کا ماحول پیدا کرتا ہے۔آخر وطن ہے کیا چیز ؟ وطن دُنیا کا ایک ایسا حصہ ہے جس میں انسانوں کا ایک گر وہ بطور شہری کے بستا ہے۔اس کا تعلق ایک تو انسان کے ساتھ وہ ہے جو انسان سمجھتا اور بنالیتا ہے اور اُس ملک میں بسنے والوں کے ساتھ اُس ملک کا ایک تعلق وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے۔