خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 105 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 105

خطابات ناصر جلد دوم ۱۰۵ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۵ء ہے کہ تم نے تمیں چالیس سال کی عمر کے بعد کیاشیم نہیں کھانی ( یعنی وہ چونا جو دوائی کے طور پر استعمال ہوتا ہے) کیونکہ اس سے تکلیف ہوگی اور امریکہ کا ڈاکٹر کہتا ہے کہ اگر سو سال عمر ہے تو سو سال تک کیلشیم کھاتے چلے جاؤ۔پس بڑا تضاد ہے۔پھر یہ عقل کے متعلق بڑی مہمل باتیں کرتے ہیں بعض احمدی بھی اس سے متاثر ہو جاتے ہیں اس واسطے میں اس کا مسئلہ بھی حل کر جاؤں۔انہوں نے یہ سٹنٹ چلایا ہے کہ کہتے ہیں کہ جی عقل کافی ہے اب ہمیں قرآن کریم کی ہدایت یا آسمانی ہدایت کی کیا ضرورت ہے۔اگر قرآن کریم کا نام لیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اسے اپنی عقل سے سمجھ لیں گے۔حالانکہ قرآن کریم نے تو یہ اعلان کیا تھا کہ تم اپنی عقل سے مجھے نہیں سمجھ سکتے۔قرآن کریم نے کہا تھا کہ فِي كِتُبِ مَّكْنُونِ (الواقعة : ۷۹) کہ میرے وہ حصے جو چھپے ہوئے ہیں اور آئندہ سے تعلق رکھتے ہیں۔لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة : ٨٠) صرف مقدس اور پاکیزہ اور مطہر لوگ ہی اللہ تعالیٰ سے اس کا علم حاصل کریں گے قرآن کریم نے یہ نہیں کہا تھا کہ فی كِتَبٍ مَّكْنُونِ (الواقعة : ۷۹) کہ یہ ایک چھپی ہوئی کتاب ہے اور سوائے عقل مند کے اس کو کوئی نہیں سمجھ سکے گا۔قرآن کریم کا یہ اعلان نہیں ہے لیکن اس بات کو چھوڑو اور دنیا کی عقل ہی کو لے لو۔اب عقل مند صرف امریکہ میں تو نہیں ہیں یا عقلمند صرف روس میں تو نہیں ہیں۔اس وقت اقتصادیات ایک عام اور ہر ایک کے ساتھ تعلق رکھنے والا ایک ضروری مسئلہ ہے اور یہ پرابلم (Problem) اور یہ مسئلہ امریکہ میں بھی ہے اور روس میں بھی ہے اور دنیوی عقل رکھنے والے امریکہ میں بھی ہیں اور روس میں بھی ہیں۔اگر دس چوٹی کے عقل مند اور دنیوی لحاظ سے صاحب علم و فراست ماہر اقتصادیات امریکہ سے لئے جائیں اور دس چوٹی کے ماہر اقتصادیات اور صاحب علم و فراست روس سے لئے جائیں اور ان کو اکٹھا بٹھا دیا جائے تو وہ ایک نتیجے پر نہیں پہنچتے۔روسی کسی اور نتیجے پر پہنچتے ہیں اور امریکن کسی اور نتیجے پر پہنچتے ہیں۔اب ہم کس کی عقل کو صحیح تسلیم کریں۔وہ عقل کہاں سے آئے گی جو ان کے درمیان فیصلہ کرے گی پھر تو یہ ماننا پڑے گا کہ وہ کہیں عالم بالا سے ہی آئے گی۔کیونکہ دنیوی لحاظ سے تو ان سے بڑا کوئی نہیں ہے۔اب چین کچھ نکل رہا ہے اور قریباً قریباً ان کے ساتھ پہنچ گیا ہے۔لیکن وہ اپنا ایک الگ نتیجہ نکال رہا ہے جو کہ روس کا عقل مند نہیں نکالتا اور جو امریکہ کا عقل مند نہیں نکالتا۔پس عقل مند تو خود آپس میں گتھم گتھا أ