خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 93
خطابات ناصر جلد دوم ۹۳ افتتاحی خطاب ۲۶؍دسمبر ۱۹۷۵ء۔دنیا پر ہی خدا تعالیٰ فضل کرے اور وہ دن جلد لے آئے کہ جب خدا کی ناراضگی کی بجائے خدائے واحد و یگانہ کا پیار انسان حاصل کر لے۔وہ خدا جس کی قدرتیں عظیم اور جس کی حکمتیں حسین ہیں اور جس کا پیار انسان کے لئے اس قدر ہے کہ انسان نہ اس کا تصور کر سکتا ہے اور نہ زبان اور جوارح سے اس کا شکر ادا کر سکتا ہے خدا کرے کہ اس کا پیارا نسان حاصل کر لے۔خدا نے ہمیں اس کام کے لئے اپنا آلہ بنایا ہے وہ اُس وقت تک ہمیں اپنے ہاتھ میں رکھے گا ، اپنی حفاظت میں رکھے گا اور پیار سے ہمارا خیال رکھے گا جب تک ہم اس کی منشا کے مطابق وہ کام کریں گے جو وہ ( ہم سے ) چاہتا ہے کہ ہم کریں۔لیکن اگر ہم اپنی کسی غفلت یا کوتا ہی یا گناہ یا معصیت کے نتیجہ میں ایسا نہ کر سکیں تو خدا تعالیٰ کو ہماری پر وانہیں۔وہ تو غنی اور صمد ہے وہ ہمیں نجاست کے ایک ذرے سے بھی زیادہ حقیر سمجھے گا اور اُٹھا کر پرے پھینک دے گا۔خدا کرے کہ کسی احمدی کو وہ گھڑی دیکھنی نصیب نہ ہو بلکہ ہمیشہ ہی اس کا پیار ہمیں نصیب رہے۔اس وقت جماعت سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں آدمی دُنیا میں خدا تعالیٰ کے نام کو بلند کرنے کے لئے ہر قسم کی تکالیف برداشت کر رہے ہیں۔خدا تعالیٰ کی رحمت کا سایہ ہمیشہ ان کے سروں پر رہے اور ہماری دعائیں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوں اور خدا تعالیٰ کے فرشتے آسمانوں سے اُتریں اور ان کی راہنمائی فرمائیں اور ان کی کوششوں میں برکت اور تاثیر پیدا کریں۔یہاں پر ہمارے شاہد مربی بھی ہیں اور تبلیغ میں ہر وقت مگن رہنے والے ہمارے مخلص رضا کاربھی ہیں۔اور بعض دفعہ انسان یہ دیکھ کر حیران ہوتا ہے کہ ایک شخص جو بظاہر جامعہ میں نہیں پڑھا ہوا لیکن جس کا دل اخلاص سے بھرا ہوا ہے اللہ تعالیٰ اس احمدی کی کوششوں میں اس مربی کی کوششوں سے زیادہ برکت ڈال دیتا ہے جس نے سالہا سال تک مرکز میں رہ کر تربیت حاصل کی ہوتی ہے۔انسان اپنی کوششوں سے نیکی کے نتائج اور رُوحانی نتائج نہیں نکال سکتا۔یہ یاد رکھو، اچھی طرح یا درکھو کہ جب تک آسمانوں سے خدا کا فضل نازل نہ ہو یہ چیز نہیں ملا کرتی۔اسی واسطے جب مجھ سے ہمارے شاہد مربی ملتے ہیں تو اگر میرے پاس وقت ہو تو میں ان کو لمبی نصیحتیں کرتا ہوں لیکن جب میرے پاس صرف اتنا وقت ہو کہ میں انہیں نصیحت کا صرف ایک فقرہ کہہ سکوں تو