خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 679
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۷۹ ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۳ء۔اختتامی خطاب اور کون سا دلی درد کا مقام ہوگا کہ ایک عاجز انسان کو خدا بنایا گیا ہے اور ایک مشتِ خاک کو رب العالمین سمجھا گیا ہے میں کبھی کا اس غم سے فنا ہو جاتا اگر میرا مولیٰ اور میرا قادر تو انا مجھے تسلی نہ دیتا کہ آخر توحید کی فتح ہے۔غیر معبود ہلاک ہوں گے اور جھوٹے خدا اپنی خدائی کے وجود سے منقطع کئے جائیں گے۔مریم کی معبودانہ زندگی پر موت آئے گی اور نیز اس کا بیٹا اب ضرور مرے گا۔خدا قادر فرماتا ہے کہ اگر میں چاہوں تو مریم اور اس کے بیٹے عیسی اور تمام زمین کے باشندوں کو ہلاک کروں۔سو اب اس نے چاہا ہے کہ ان دونو کی جھوٹی معبودانہ زندگی کو موت کا مزہ چکھا دے۔سواب دو نو مریں گے کوئی ان کو بچا نہیں سکتا اور وہ تمام خراب استعدادیں بھی مریں گی جو جھوٹے خداؤں کو قبول کر لیتی تھیں۔نئی زمین ہوگی اور نیا آسمان ہوگا۔اب وہ دن نزدیک آتے ہیں کہ جو سچائی کا آفتاب مغرب کی طرف سے چڑھے گا اور یورپ کو سچے خدا کا پتہ لگے گا اور بعد اس کے تو بہ کا دروازہ بند ہوگا کیونکہ داخل ہونے والے بڑے زور سے داخل ہو جائیں گے اور وہی باقی رہ جائیں گے جن کے دل پر فطرت سے دروازے بند ہیں اور نور سے نہیں بلکہ تاریکی سے محبت رکھتے ہیں۔قریب ہے کہ سب ملتیں ہلاک ہوں گی مگر اسلام۔اور سب حربے ٹوٹ جائیں گے مگر اسلام کا آسمانی حربہ کہ وہ نہ ٹوٹے گا نہ کند ہوگا جب تک دجالیت کو پاش پاش نہ کر دے۔وہ وقت قریب ہے کہ خدا کی کچی تو حید جس کو بیابانوں کے رہنے والے اور تمام تعلیموں سے غافل بھی اپنے اندر محسوس کرتے ہیں ملکوں میں پھیلے گی۔اس دن نہ کوئی مصنوعی کفارہ باقی رہے گا اور نہ کوئی مصنوعی خدا۔اور خدا کا ایک ہی ہاتھ کفر کی سب تدبیروں کو باطل کر دے گا لیکن نہ کسی تلوار سے نہ کسی بندوق سے بلکہ مستعد روحوں کو روشنی عطا کرنے سے اور پاک دلوں پر ایک نور اتارنے سے۔تب یہ باتیں جو میں کہتا ہوں سمجھ میں آئیں گی“۔( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۸،۷) جس چیز کو خدا کا ایک ہی ہاتھ مٹا سکتا ہے۔جو فتح خدا تعالیٰ کی ایک قادرا نہ تجلی حاصل کر سکتی ہے اس کو ایک لمبے عرصے میں پھیلا کر اور اس مجاہدہ میں آپ کو شریک کر کے اللہ تعالیٰ نے کتنا احسان کیا ہے جماعت احمد یہ پر۔