خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 680 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 680

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۸۰ ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۳ء۔اختتامی خطاب پس اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ جھکو اور اس سے دعائیں کرو۔اسی سے مانگو۔کوئی بت نہ ظاہری اور نہ اپنے دلوں میں پوشیدہ رکھو۔سب بتوں کو تو ڑ کر اور سب حیلوں سے منہ موڑ کر اس خدا پر کامل اور پختہ اور زندہ ایمان لاؤ جو نہایت ہی پیار کرنے والا اور بہت ہی رحمتیں نازل کرنے والا اور اس دنیا میں نیک بندوں اور پیاروں کے لئے جنت کو پیدا کرنے والا اور دشمن کے ہر وار کو ناکام بنانے والا ہے اور دشمن کے دیئے ہوئے ہر دکھ کو سکھ میں تبدیل کر دینے والا ہے، جو ہر آگ کو جو اس کے سلسلہ کو مٹانے کے لئے جلائی جائے ٹھنڈی کر دینے والا اور سلامتی سے لبریز کر دینے والا خدا ہے۔جس نے اپنے مہدی کو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی انتہائی خدمت کرنے کے لئے مبعوث کیا اور اسلام کے غلبہ کے لئے پیشگوئیاں عطا ہوئیں جس نے نوع انسانی کے دلوں کو جیتنے کے روحانی اور اخلاقی اسلحہ عطا کئے اس کی جماعت ہو کر کسی اور کی طرف نہ دیکھو۔اس کو مانو۔اس کا عرفان حاصل کرو۔اسی کے ہو جاؤ اور اس کے علاوہ کسی اور کی طرف نہ جھکو اور نہ کسی کا خیال اپنے دل میں لاؤ۔اللہ تعالیٰ کی رحمتیں تمہیں اپنے گھیرے میں لے لیں گی۔اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا تم پر اس قدر نزول ہوگا کہ تمہاری زندگیوں کے لمحات ختم ہو جائیں گے مگر خدا تعالیٰ کی رحمتوں کا شمار نہ ہو سکے گا۔خدا بڑی پیاری ہستی ہے۔تم اس کو بھی نہ بھولو۔اس سے کبھی جدائی اختیار نہ کرو۔کیونکہ اسی میں ہماری زندگی ہے، اسی سے ہمارا نور اور اسی سے ہمارا سکون اور وہی ہماری جنت اور وہی ہماری روح ہے۔اب ہم دعا کریں گے اور اس دعا پر اس سال کے جلسہ سالانہ کا اختتام ہوگا۔جہاں اور بہت سی دعائیں دل سے یا زبان سے کیں وہاں میں یہ دعا بھی کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سردی کے موسم میں اس دھند میں ، ان برفانی ہواؤں میں اس کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے جلسہ میں شمولیت کی توفیق عطا کی ہے اور یہاں آپ کا حافظ و ناصر ہوا ہے۔جن کو آپ پیچھے چھوڑ کر آئے ہیں ان کا بھی حافظ و ناصر ہو اور آپ پیار کے جذبہ کے اظہار کے لئے یہاں آئے۔(آخر) یہ پیار کا جذبہ ہی تھا جو دوستوں کو اس شدید سردی کے موسم میں یہاں لے آیا )۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس پیار کے جذبے کی احسن جزا عطا فرمائے اور جو اپنی مجبوریوں کی وجہ سے آپ کے ساتھی نہیں بن سکے، یہاں سے غیر حاضر رہ گئے ان کو بھی اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے آپ ہی کے ساتھ رحمت اور