خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 670 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 670

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۷۰ ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۳ء۔اختتامی خطاب اور ساری نوع انسانی کو امت واحدہ بنادینا آپ کا اصل مقصد تھا۔ساری مالتیں مٹ جائیں گی سوائے ملت اسلامیہ کے۔یہ پیشگوئیاں موجود ہیں۔یہ پرانی خبریں ہیں۔قرآن کریم نے بتایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ یہ کام ہو گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صرف یہ کہا اور اس کے ایک حصہ کے متعلق ہماری عقل اور سمجھ نے بھی ہمیں یہ بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں جو کام کرنے ہیں ان کاموں کا عرصہ قیامت تک پھیلا ہوا ہے۔کچھ پہلی صدی میں ہوئے ، کچھ دوسری صدی میں ہوئے اور کچھ پندرہویں میں ہوں گے۔اگر قیامت تک کے کام پہلی صدی میں ہو جاتے تو باقی دنیا کیا کرتی۔اللہ تعالیٰ نے ہر صدی کے لئے کچھ نہ کچھ کام رکھے ہوئے ہیں۔اب یہ کام کہ نوع انسانی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض اور برکات سے ایک خاندان بن جائے ، ایک امت واحدہ بن جائے ، یہ ذمہ داری پیشگوئیوں کے مطابق مسیح موعود علیہ السلام کے سپرد کی گئی ہے۔کیونکہ یہ ایک آخری کام ہے۔پھر جب اسلام کا کامل طور پر غلبہ ہو جائے گا تو ر پھر ( جیسا کہ میں نے بچوں کو بتایا تھا اور بڑوں کو بھی بتایا تھا ) بیرونی محاذ کی جنگ ختم ہو جائے گی۔کیونکہ نہ کوئی غیر رہے گا نہ غیر سے جنگ کا کوئی سوال پیدا ہو گا لیکن تربیت کا جو اندرونی محاذ ہے اس پر تو نوع انسانی جب تک زندہ ہے جنگ جاری رہے گی۔بہر حال آخری کام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دنیا میں جوکرنا تھا وہ نسل انسانی کو امت واحدہ بنانے کا تھا اور یہ کام پیشگوئیوں کے مطابق آپ کے جس جرنیل کے سپرد کیا گیا ہے اسے احادیث کی رو سے مہدی اور مسیح کا لقب دیا گیا ہے۔بین الاقوامی برادری کا قائم کرنا یہ ایک بہت اہم کام ہے اور مشکل کام بھی ہے۔اس میں تربیت کی بڑی ضرورت ہے۔اس وقت دنیا بنیادی طور پر اور ذہنی لحاظ سے دو حصوں میں منقسم ہے۔ایک دنیا وہ ہے جو نیشنلزم کی حدود کو پار کر کے انٹر نیشنلزم برادری کی طرف حرکت کر چکی ہے اور نیشنلزم یعنی قومیت کا جو جذبہ تھا دوسروں کے ساتھ ملاپ نہیں کرنا، کہتے تھے ہم فرانسیسی ہیں، ہم انگریز ہیں، ہم جرمن ہیں یہ سرحدیں ختم ہو چکی ہیں۔اب تو یورپین کا من ( Common) مارکیٹ بن چکی ہے۔پہلے لیگ آف نیشنز بنی تھی۔اب یونائیٹڈ نیشنز آرگنا ئز یشن بن گئی ہے لیکن دوسرا حصہ ایسا ہے جو مظلوم اور غلام بنا رہا اور استحصال کا شکار رہا۔ان کو نئی نئی آزادیاں ملی ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں ترقی کی راہ پر چلتے ہوئے نیشنلزم میں سے ضرور گذرنا چاہئے۔خواہ آج کی دنیا میں ---