خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 671
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۷۱ ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۳ء۔اختتامی خطاب انسان ان نقصانات کو برداشت کئے بغیر انٹر نیشنلزم ( بین الاقوامی برادری ) ہی کا حصہ کیوں نہ بن سکتا ہو۔اب جہاں جہاں نئی نئی آزاد مملکتیں قائم ہوئی ہیں وہاں نیشنلزم یعنی قومیت کا پرچار زیادہ کیا جاتا ہے اور سمجھا جاتا ہے کہ مذہب کی پیروی کی بجائے نیشنلزم سے چمٹے رہنا چاہئے۔مثلاً میں ۱۹۷۰ء میں جب افریقہ کے دورے پر گیا تو ایک موقع پر مجھے بتایا گیا کہ چند لوگ کہتے ہیں لیکن میں نے ان کو سمجھایا کہ Ghanian for Ghana Ghanians are for the whole world, not for Ghana alone میں نے ان کو یہ بھی سمجھایا کہ جہاں تک تمہاری سیاست کا تعلق ہے تم نیشنلسٹ بنے رہو۔خود سیاسی حالات تمہیں یہ سبق سکھا دیں گے کہ تمہیں کس حد تک نیشنلسٹ بننا چاہئے اور کس حد تک تمہیں انٹر نیشنلزم ( بین الاقوامی برادری ) میں شامل ہو کر اس کے فوائد حاصل کرنے چاہئیں لیکن جہاں تک دین اسلام کا تعلق ہے خدا کا مہدی اور مسیح آگیا۔اب مسیح کی خلافت کا سلسلہ جاری ہو گیا۔خلافت کا مرکز تم سے کچھ مانگتا نہیں بلکہ وہ تمہیں کچھ دیتا ہے۔اس لئے دین کے معاملہ میں نیشنلزم کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔بین الاقوامی برادری ( بیہ اس زمانہ کا بہت بڑا کارنامہ ہے) اس کی ابتدا ہو چکی ہے۔نسل انسانی امت واحدہ بننے کے لئے تیار ہو چکی ہے لیکن اس کے لئے محنت کرنا پڑے گی۔ذہنی تربیت کرنی پڑے گی لیکن بہر حال یہ کام شروع ہو چکا ہے۔ایک تحریک چل پڑی ہے، جو انشاء اللہ کامیاب ہوگی۔پس دنیا کو امت واحدہ بنانے کے لئے تدابیر کرنی چاہئیں۔دعا کرنی چاہئے۔چنانچہ وہ تدابیر جو اس وقت تک میرے ذہن میں آچکی ہیں وہ یہ ہیں۔اول :۔دنیا میں ٹیلیفون کے علاوہ ایک طریقہ ٹیلیکس کا ہے۔یہ ایک جدید نظام ہے جو تارا اور ٹیلیفون کی نسبت جلد پیغام پہنچانے میں کام آتا ہے اور سستا بھی ہے۔ساری دنیا کے ممالک جہاں اس وقت تک جماعت احمد یہ مضبوط ہو چکی ہے، ان کا آپس میں ٹیلیکس کے ذریعہ باہمی تعلق قائم ہو جانا چاہئے۔چنانچہ میں نے اس کی ابتداء جماعت احمد یہ انگلستان کو تحریک کر کے کروادی تھی۔وہاں پتہ کروایا گیا تھا۔ایک کمپنی ایسی ہے جو