خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 640
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۴۰ ۲۷/ دسمبر ۱۹۷۳ء۔دوسرے روز کا خطاب دے گا اور آدمی بھی دے گا لیکن مجھے اور تمہیں یہ فکر کرنی چاہئے کہ ہم یہ حقیر قربانی جو اپنے رب کے حضور پیش کریں وہ قبول ہوتی ہے یا نہیں۔اس کے لئے ہمیں دعائیں کرنی چاہئیں کہ خدا ہماری ان حقیر قر بانیوں کو قبول فرمائے۔مجھے بھی یہ فکر ہونی چاہئے اور آپ کو بھی یہ فکر ہونی چاہئے۔میں نے ان سے پانچ سات سال کا وعدہ کیا تھا کہ اس عرصہ میں اتنے ہیلتھ سنٹر بن جائیں گے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل اور اپنی رحمت سے یہ سامان پیدا کئے کہ ابھی ڈیڑھ سال نہیں گذرا تھا کہ وہاں سترہ طبی مراکز بن گئے جن میں سے کئی بڑی عمارتوں والے ہسپتال عملاً بن چکے ہیں اور کئی اس راہ پر ہیں جو آج نہیں تو کل۔اور ہمارے نئے سکول اور کھلے ہیں اس کے لئے بائیں اساتذہ یہاں خدا نے دیئے اور وہ وہاں کام کر رہے ہیں سکول بھی ہیں اور ہسپتال بھی۔سکول ہسپتال کی نسبت زیادہ وقت میں بالغ ہوئے ہیں۔کیونکہ ہسپتال آج اگر جا کر کام شروع کرے اور اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ڈاکٹر کے ہاتھ میں شفاء دے تو کل کو دوسرے ہسپتالوں کے مریض وہاں آنے شروع ہو جائیں گے لیکن سکولوں کی ہر سال ایک نئی کلاس زائد ہوتی ہے۔اگر زیادہ ہمت کریں تو ایک سال میں دو کلاسیں اور پانچویں سال میں یا تین چار سال میں مکمل ہوتا ہے اور چھیل کر اس پر خرچ آتا ہے بہر حال سکولوں میں کام ہو رہا ہے اور اساتذہ کی زیادہ ضرورت بھی پڑ رہی ہے اور ی اساتذہ میسر بھی آرہے ہیں اور ڈاکٹروں پر تو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کا اس طرح ہاتھ رکھا کہ ایک ڈاکٹر نے ڈیڑھ سال میں تمہیں ہزار پاؤنڈ خالص بچت کی۔حالانکہ ہزاروں کی تعداد میں غریبوں کا علاج مفت کیا لیکن خدا تعالیٰ نے ہاتھ میں اتنی برکت رکھی کہ بڑے بڑے دولت مند جو افریقہ میں رہتے ہیں جن میں حکومت کے بڑے بڑے افسر یہاں تک کہ وزراء شامل تھے اپنے ہسپتالوں کی بجائے وہ ہمارے چھوٹے چھوٹے کلینکوں میں آنے شروع ہو گئے۔خدا نے انہیں پیسہ دیا تھا اور ڈاکٹروں کو پتہ تھا انہوں نے اُن سے پیسے لئے۔اُن کے پیسے میں ہمیں دلچسپی نہیں تھی۔اُن کا پیسہ ہم ان ہی کے مُلک پر خرچ کرنا چاہتے ہیں۔جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہم نے وہاں خرچ کیا ہے۔پھر ایک دھیلہ ہم وہاں سے باہر نہیں لے کر آئے۔بلکہ لاکھوں باہر سے ہم وہاں لے کر جاتے ہیں اور ان پر خرچ کرتے ہیں۔یہ نہ فخر کی بات ہے اور نہ یہ کسی پر احسان ہے یہ تو خدا کی شان ہے کہ وہ اپنی رحمت سے ہم پر یہ احسان کرتا ہے کہ وہ ہمیں اپنی مخلوق کی خدمت کی