خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 53
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۳ ۲۱؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔اختتامی خطاب قبروں میں دبے پڑے ہیں باہر آویں ہم میں سے ہزاروں لاکھوں نے خود مشاہدہ کیا کہ قرآن کریم کی سچی متابعت اور اس مطہر صحیفہ سے کامل محبت اور اخلاص کے فیض سے اس پاک وجود مصلح موعودؓ کی نظر اور فکر کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو تمام فیوض کا سر چشمہ ہے۔ایک نور عطا ہوا۔جس سے علم الہی کے عجیب وغریب لطائف اور نکات جو کلام الہی اور کتاب مکنون میں پوشیدہ تھے۔اس پر کھلنے لگے اور دقیق معارف ابر نیساں کے رنگ میں اس پر برسنے لگے اور خدائے وہاب نے اپنی رحمانیت سے اس کے فکر اور نظر کو ایک ایسی برکت عطا کی کہ اس کے آئینہ فکر ونظر پر کامل صداقتیں منکشف ہونے لگیں۔سوجو جو علوم و معارف اور دقائق و حقائق اور لطائف و نکات اور ادلہ و براہین اُسے سو جھے اور جنہیں اس نے تفسیر کبیر اور اپنی دوسری کتب میں بیان کیا۔وہ اپنی کمیت اور کیفیت میں ایسے کامل مرتبہ پر واقع ہیں کہ جو یقیناً خارق عادت ہے اور جس کا مقابلہ کسی دوسرے کے لئے ممکن نہیں۔کیونکہ تفسیر کا یہ خارقِ عادت معجزہ اس کی کسی ذاتی خوبی کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ اسے غیبی تفہیم اور خدائے صمد اور قدوس کی تائید سے اس نے لکھا تھا اور یہی خوارق اس کی عالی منزلت اور حسن و احسان میں مسیح محمدی کا مثیل ہونا ثابت کرتے ہیں اور خدائی بشارات اور الہی تفہیم کے مطابق دین و دنیا کے علوم ونکات کے بیان میں وہ اپنے ہم عصروں سے اس قد ر سبقت لے گیا کہ اس کی تقریروں کو سُن کر اور اس کی کتب کا مطالعہ کرنے کے بعد اپنے اور پرائے اس اعتراف پر مجبور ہوئے کہ اس کے بیان کردہ علوم ومعارف ایک دوسرے ہی عالم سے ہیں۔جن کا دنیوی تعلیم و تدریس سے دُور کا بھی واسطہ نہیں اور جو تائیدات الہیہ کے خاص رنگ سے رنگین ہیں اللہ تعالیٰ کی خاص مشیت نے حضرت مصلح موعودؓ کو علوم ظاہری اور باطنی میں برتری عطا کی تھی اور اسلام کا شرف اور کلام اللہ مرتبہ لوگوں پر ظاہر کرنے کے لئے جو قو تیں آپ کو بخشی گئیں ان کو ثابت کرنے کے لئے آپ نے متعدد بار دنیا کوللکارا مگر کوئی نہ تھا جو آپ کے مقابلہ پر آنے کی جرات کرتا۔۱۹۱۷ء میں آپ تمام دنیا کو مندرجہ ذیل الفاظ میں چیلنج دیا۔میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد تمام دنیا کو چیلنج دیتا ہوں کہ اگر کوئی شخص ایسا ہے جسے اسلام کے مقابلہ میں اپنے مذہب کے سچا ہونے کا یقین ہے۔تو آئے