خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 52 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 52

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۲ ۲۱ ؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔اختتامی خطاب جاتے ہیں اور تمام سرور اپنا اسی میں پاتے ہیں کہ مولیٰ حقیقی کی وفا اور محبت اور رضا سے دل بھرا ر ہے اور اُسی کے ذوق اور شوق اور اُنس سے اوقات معمورر ہیں۔اس دولت سے بیزار ہیں کہ جو اس کی خلاف مرضی ہے اور اس عزت پر خاک ڈالتے ہیں جس میں مولیٰ کریم کی ارادت نہیں اور ایسا ہی وہ نور کبھی فراست کے لباس میں ظاہر ہوتا ہے اور کبھی قوت نظریہ کی بلند پروازی میں اور کبھی قوت عملیہ کی حیرت انگیز کارگزاری میں کبھی حلم اور رفق کے لباس میں اور کبھی درشتی اور غیرت کے لباس میں۔کبھی سخاوت اور ایثار کے لباس میں، کبھی شجاعت اور استقامت کے لباس میں کبھی کسی خلق کے لباس میں اور کبھی کسی خلق کے لباس میں اور کبھی مخاطبات حضرت احدیت کے پیرایہ میں اور کبھی کشوف صادقہ اور اعلامات واضحہ کے رنگ میں یعنی جیسا موقعہ پیش آتا ہے اس موقعہ کے مناسب حال وہ نور حضرتِ واہب الخیر کی طرف سے جوش مارتا ہے۔نور ایک ہی ہے اور یہ تمام اس کی شاخیں ہیں جو شخص فقط ایک شاخ کو دیکھتا ہے اور صرف ایک ٹہنی پر نظر رکھتا ہے۔اس کی نظر محدود رہتی ہے اس لئے بسا اوقات وہ دھوکا کھا لیتا ہے لیکن جو شخص یکجائی نگاہ سے اس شجرہ طیبہ کی تمام شاخوں پر نظر ڈالتا ہے اور ان کے انواع اقسام کے پھلوں اور شگوفوں کی کیفیت معلوم کرتا ہے۔وہ روز روشن کی طرح ان نوروں کو دیکھ لیتا ہے اور نورانی جلال کی کھینچی ہوئی تلوار میں اس کے تمام گھمنڈوں کو توڑ ڈالتی ہیں۔“ ہر ۵۴۷ براہین احمدیہ ہر چہار حصص روحانی خزائن جلد نمبر صفحه ۵۴۷ ح در ح ۵۴۸۴ ح درح) انہی انوار میں سے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمائے ہیں۔وہ ایک نور تھا وہ الہی وعدہ نو ر آتا ہے نور کے مطابق ۱۴ مارچ ۱۹۱۴ء کو ہمارے افق پر طلوع ہوا اور ے رنومبر ۱۹۶۵ء کی رات کو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اُٹھایا گیا۔انا لله وانا اليه راجعون (البقرة: ۱۵۷) 66 (۲) اس پیشگوئی میں جو دوسری بات ہمیں مصلح موعود کے متعلق بتائی گئی ہے یہ ہے کہ وہ علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا اور یہ اس لئے کہ ” تا دین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو۔“ اور ” تا وہ جو زندگی کے خواہاں ہیں۔موت کے پنجہ سے نجات پاویں اور وہ جو