خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 600
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۰۰ ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۲ء۔اختتامی خطاب فائدہ اُٹھانا ہے بلکہ اس لئے کہ ہم میں سے ہر ایک شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرے اور وہ اس عظیم ہستی کی عظیم فوج کا ایک سپاہی بن جائے۔جس کے ذریعہ سے دنیا کے گھر گھر میں اللہ تعالیٰ کے نور کے چراغ روشن ہوئے ہیں اور جن مکانوں کے او پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا لوائے حمد لہرایا جانا ہے۔پھر جماعت کو مالکیت یوم الدین کا بھی مظہر بنا ہے۔ہم اس کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ساری جماعت مل کر کوشش کرتی ہے۔اسے ہر وقت سامنے رکھنا چاہئے۔کوئی فیصلہ نفس کے جوش سے نہیں کرنا چاہئے ہر فیصلہ اللہ تعالیٰ کی منشاء اور اسلامی تعلیم کے مطابق ہونا چاہئے اور اس فیصلہ سے فضائی فیصلہ مراد نہیں ہے۔اس فیصلہ سے ثالثی فیصلہ مراد نہیں ہے۔بلکہ ہر کام کے کرنے سے پہلے جو فیصلہ کیا جاتا ہے وہ فیصلہ مراد ہے۔صبح سے لے کر شام تک آپ کا جو وقت گذرتا ہے۔اس میں آپ اس قسم کے سینکڑوں فیصلے کرتے ہیں۔مثلاً آپ نے بچوں کے ساتھ کیا سلوک کرنا ہے۔ان میں سے ہر ایک سے بوجہ طبیعتوں کے اختلاف کے علیحدہ علیحدہ سلوک کرنا ہے۔آپ نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اگر مثلاً کسی کی بیوی غفلت کر جائے تو غصہ میں نہیں آنا۔پچھلے دنوں مجھے بڑا دکھ پہنچا جماعت کے ایک کارکن کی بیوی آپا مریم صدیقہ اور منصورہ بیگم کے پاس آئی اور بتایا کہ اُس کے خاوند نے اسے اتنی بے رحمی سے مارا ہے کہ اس کا سارا جسم نیلا ہوا ہوا ہے۔تم خدا کی طرف اور اس کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اور اس کے محبوب مہدی کی طرف منسوب ہوتے ہو۔تمہارے کان میں تو یہ آواز پڑ رہی ہے کہ مالکیت یوم الدین کی صفت کے مظہر ہولیکن اپنے نفس کے جوش سے ظلم اور وحشت کا مظاہرہ کرتے ہو۔احباب جماعت ایسے لوگوں کے لئے دُعا بھی کریں۔پس مالکیت یوم الدین کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ نفس کے سارے جوش ٹھنڈے ہو جائیں۔سوچو اور غور کرو۔بعض دفعہ جوش آ بھی جاتا ہے۔اس قسم کی کیفیت فطرتی لازمہ ہے۔مثلاً کہیں جلسہ ہو رہا ہے۔وہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دی جارہی ہیں۔ایک وقت میں غیر ملکوں میں اسلام کے خلاف سخت گندے اعتراض کر دیئے جاتے تھے۔دنیا کے ایک حصے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی گئی اور گندہ اعتراض کیا گیا اور دنیا کے دوسرے حصہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب مہدی معہود علیہ السلام کو گالیاں دی گئیں اور گندے اعتراضات کر دیئے گئے۔جہاں بھی یہ اعتراض ہو وہاں ہمارے نفس جوش میں نہیں آنے چاہئیں۔خدا تعالیٰ کے