خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 599
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۹۹ ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۲ء۔اختتامی خطاب جاتی ہیں کہ قرآن کریم ایک حسین تعلیم تھی یہ اس سے غفلت برتنے والے ہیں اور اس کے کمالات سے بے خبر ہیں۔قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ کوئی شخص اگر تم پر احسان نہ بھی کرے تب بھی تم اس پر احسان کرو۔یہ وہ لوگ ہیں جن پر ہم احسان کرتے ہیں وہ ہمیں مٹانے کے درپے ہیں۔ہم ان سے جزا اور شکر کا مطالبہ نہیں کرتے مگر وہ ہمیں مٹانے کے درپے ہیں۔وہ قرآن کریم کی تعلیم کو بھول جاتے ہیں۔ہم ان کے لئے دعائیں کر رہے ہیں اور وہ ہمیں گالیاں دے رہے ہیں اور نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔قرآن کریم نے ایک جگہ کہا ہے کہ یہ لوگ استہزاء کر رہے ہیں اور اے رسول ! تو ان کی ان حرکتوں پر تعجب کر رہا ہے۔خدا نے ان کے لئے ایک عزت کا سامان آسمان سے بھیجا۔اور وہ اپنی عزت اور شرف کے سامان کو پہچانتے ہی نہیں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کی رحیمیت ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حقیقت کو بھی بطور مظہر اتم کے دنیا پر ظاہر فرمایا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی نصیحت فرمائی ہے کہ اپنے اپنے دائرہ استعداد میں کمال کو پہنچانی چاہئے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ جو ٹھیک کام کرنے والے ہیں ان کے کام کی تکمیل میں اُن کی مدد کر نا ضروری ہے۔صفت رحمانیت کے زیادہ ظاہری جلوے وہاں عیاں ہوں گے جہاں یہ جلوہ ظاہر ہو رہا ہے۔اس کا جماعت سے تعلق نہیں اور رحیمیت کا جلوہ تعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى ( المَآبِدَة :٣) کے ماتحت ظہور پذیر ہوگا۔کوشش کرو کہ جو نیک کوشش میں مصروف ہے وہ اپنے مطلوب کو حاصل کرلے۔یعنی اپنی زبان میں احمدیت کی زبان میں یا اسلام کی زبان میں بات کریں تو کوشش کرو کہ تمہاری نوجوان نسل جو اس لئے پیدا کی گئی ہے کہ ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرے ان کی تربیت درست ہو اور وہ جو کوشش کر رہے ہیں اس میں تم ان کے مددگار بنو اور ان کا ہاتھ بٹاؤ۔ان کے ساتھ چلو۔ان کی رہنمائی کرو اور ان سے پیار کرو اور ایسا پیار کہ اس دُنیا میں اس سے زیادہ پیارا نہیں کہیں نظر نہ آئے۔وہ سمجھ جائیں اور یہ حقیقت پہچان جائیں کہ وہ کس غرض کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔یاد رکھو اپنے مطلوب کو حاصل کرنے کا ایک ہی ذریعہ ہے۔اپنی کوشش اور اپنے بھائی کی مدد اور اس کا ساتھ دینا۔اس طرح کرنے سے ہم صفت رحیمیت کے مظہر بن جائیں گے اور جماعت کو ایک بنیان مرصوص یعنی سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح بنا دیں گے۔اس لئے نہیں کہ اس سے میں نے یا آپ نے کوئی ذاتی