خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 587 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 587

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۸۷ ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۲ء۔اختتامی خطاب ہر جاندار پر ہے اور ہر جاندار کو اس نے مناسب حال صورت اور سیرت بخشی ہے یعنی اس کو شکل بھی ایسی دی کہ جو کام اس سے وہ لینا چاہتا تھا وہ لے اور اس کو سیرت بھی ایسی بخشی وہ صفات الہی کا مظہر بنے۔گویا اس کو جسمانی لحاظ سے ایسی ظاہری اور باطنی شکل عطا کی کہ وہ خدا کی صفات کے رنگوں میں رنگین ہو سکے۔بکری سے کہا کہ ہم تجھے ایسا جسم دیتے ہیں کہ تو درخت کے پتے بھی کھا جایا کر اور بھیٹر جس کی بہت ساری قسمیں ہیں ) اُن سے کہا کہ تو درخت کے پتے نہ کھا بلکہ گھا س پھوس میں منہ ماراس میں سے تیرے لئے خوراک مل جائے گی۔اونٹ سے کہا کہ جہاں بکری کا منہ نہیں پہنچتا وہاں تک اپنی گردن لے جا اور وہاں سے پتے کھا لے۔پس اللہ تعالیٰ نے اُن جانوروں کی جو مختلف اغذیہ بنائی ہیں جن کے گوشت کو ہمارے لئے حلال کیا۔سوچنے والی بات یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں کیا۔اس نے ایسا اس لئے کیا کہ دوسری جگہ فرمایا تھا کہ میں نے تمہارے لئے متوازن غذا بنائی ہے اگر صرف درختوں کے پتے اور گھاس پھوس کھانے سے گوشت بنتا ہوتا تو پھر بکری ہی ہوتی اونٹ اور گائے بیل نہ ہوتے تو گوشت کے لحاظ سے انسان کی غذاؤں میں فرق آ جاتا۔اس لئے انسانی جسم کو متوازن غذا بہم پہنچانے کی خاطر مختلف جانور پیدا کئے جو مختلف قسم کا چارہ کھاتے ہیں اور مختلف تاثیر رکھتے ہیں لیکن اس کا سب سے زیادہ فائدہ انسان نے اُٹھایا کیونکہ اس کے لئے خدا نے بکری کو بھی قربان کر دیا اور بھیٹر کو بھی قربان کر دیا اس کے لئے اونٹ کو بھی قربان کر دیا اور بیل کو بھی قربان کر دیا حتی کہ جتنے حلال جانور ہیں ان کو قربان کر دیا۔تا کہ انسان کے جسم کو متوازن قسم کی پروٹین مل جائے۔جہاں تک انسان کا تعلق ہے ہر چیز اُس کے جذبات پر اثر انداز ہوتی ہے یعنی انسان کا جو مطلوب ومقصود ہے وہ ہے اپنے اپنے دائرہ میں مظہر صفات باری بننا۔اب مظہر صفات باری بننے کے لئے (تفصیل میں جاؤں تو بات لمبی ہو جائے گی۔آپ یہاں بھی سوچیں اور گھروں میں بھی جا کر سوچیں مثلاً ٹانگیں عطا ہوئیں۔مجھے اور آپ کو دوسری جگہ چل کر بھی جانا ہوتا ہے۔کیونکہ بہت ساری صفات کے مظہر ہونے کی وجہ سے ایک جگہ سے دوسری جگہ چل کر جانا پڑتا ہے۔استاد کو اپنے گھر سے اسکول جانا آنا پڑتا ہے اور اس کے لئے اس کے سکول پہنچنے کا انتظام ہونا چاہئے۔غرض انسان نے صفاتِ باری کا مظہر بنا تھا۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کی کروڑوں