خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 510
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۱۰ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب بہر حال پابندیاں ہیں لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ انگلستان میں ایسی کوئی پابندی نہیں۔وہاں اٹھارہ ہزار پاؤنڈ رقم جمع ہو چکی ہے۔اسی طرح سوٹزر لینڈ میں بالکل پابندی نہیں۔امریکہ میں بھی پابندی نہیں ہے۔اسی طرح اور بھی کئی ملکوں میں پابندی نہیں ہے۔وہاں ہم غیر ملکوں میں دو تین سنٹرز بنائیں گے۔یہاں سے اگر اجازت مل جائے تو اجازت لینے والوں کو اللہ تعالیٰ بہت ثواب دے گا اور ہمیں بھی بڑی خوشی ہوگی اور اگر جلدی اجازت نہ ملے۔البتہ ملے گی تو سہی آج نہیں تو کل۔حالات اور ذہنیت پر اس کا انحصار ہے لیکن ہمیں فکر نہیں ہے یہاں بھی بڑے خرچ کرنے ہیں۔مبلغ بنانے ہیں، یہاں سے جو ڈاکٹر جاتے ہیں اُن کا کرایہ دینا ہے اور بعض کتب ساتھ لے جانے کے لئے یہاں سے خرید لیتے ہیں۔کتابیں یہاں سے شائع کرنی ہیں۔قرآن کریم کے تراجم شائع کرنے ہیں۔یہ چھ ممالک جن میں میں گیا ہوں ان میں سے ایک ملک میں فرانسیسی بولی جاتی ہے وہاں فرانسیسی ترجمہ قرآن کی ضرورت ہے۔ہمارے مراکش اور مالی کے سفراء ایک جگہ ملے تھے۔وہ بڑے خوش ہوئے۔وہ احمدی نہیں لیکن وہ بہت متاثر ہیں وہ کہنے لگے آپ قرآن کریم کا ترجمہ کر رہے ہیں۔یہ ہمارے لئے ایک نعمت عظمی ثابت ہو گا پھر مراکش کا جو سفیر تھا اس نے ایک لطیفہ سنایا وہ کہنے لگا کہ ہمارے مراکش کے مفتی اعظم نے ایک دفعہ فتویٰ دے دیا کہ قرآن کریم کا ترجمہ شائع کرنا کفر ہے جو شخص قرآن کریم کا ترجمہ شائع کرے گا وہ کافر ہو جائے گا ایک تقریب کے موقعہ پر وہاں مفتی اعظم صاحب بھی تشریف لائے ہوئے تھے میں ان کے پاس گیا۔میں نے بڑے ادب اور ان کو خوش کرنے والے الفاظ استعمال کر کے ان سے کہا کہ مولانا ! آپ بچوں کو قرآن کریم پڑھاتے ہیں کہ ہاں جناب میں قرآن کریم پڑھاتا ہوں۔کہنے لگے کہ آپ بچوں کو مقامی زبان میں ترجمہ بھی سکھاتے ہوں گے وہ کہنے لگے ہاں ! ہاں! میں بچوں کو فرانسیسی زبان میں ترجمہ بھی سکھاتا ہوں۔کہنے لگے کہ جب انہوں نے یہ کہا تو میں نے اُن سے کہا کہ اگر تم زبانی ترجمہ سکھاؤ تو کفر نہیں ہوتا لیکن اگر کوئی عالم ترجمہ شائع کر دے تو وہ کافر بن جاتا ہے۔یہ تم نے کہاں سے نکال لیا ہے۔غرض دنیا تو خالی پڑی ہے ہم تو جب سوچتے ہیں تو گھبراہٹ شروع ہو جاتی ہے کہ اتنی ذمہ داریاں کس طرح ادا ہوں گی۔یہاں جو پر لیس لگے گا اس کے مینجنگ ڈائریکڑ سے میں