خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 509 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 509

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب ہزار تک پہنچ چکی ہے۔کیونکہ باہر کی جو پاؤنڈ کی رقمیں ہیں وہ تو روپے میں نہیں وہ تو پاؤنڈ ہی میں ہیں۔غرض جو ایک لاکھ پاؤنڈ خرچ کرنے کے متعلق اللہ تعالیٰ کا منشاء معلوم ہوا تھا اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے دو لاکھ دے دیا ہے۔یہ تو نصرت جہاں ریزروفنڈ کی شکل ہے۔اس میں انگلستان میں ۴۸ ہزار پاؤنڈ کے وعدے ہوئے ہیں لیکن میں نے ان کو تار دلوائی تھی انہوں نے بذریعہ تار جواب دیا کہ ۴۸ ہزار پاؤنڈ کے وعدے ہو چکے ہیں یہ دفتر کی رپورٹ up to date نہیں ہے۔امریکہ نے ۲۶ ہزار ڈالر اور غانا میں ۱۰ ہزار پاؤنڈ کے وعدے ہوئے ہیں۔میں۔ان کو بھی کہا تھا کہ تمہیں بھی کچھ کام کرنا پڑے گا۔صرف باہر سے منگوا کر تمہیں منگتا نہیں بنانا چاہتا۔پس غانا کی جماعتوں نے وعدے کر دیئے ہیں وصولی بھی خاصی ہو چکی ہے اور اب تک ہو رہی ہے۔سیرالیون میں سات ہزار ( ان کی کرنسی ہے یہ بھی کوئی دس شلنگ کے قریب ہوتی ہے) قریباً چار ہزار پاؤنڈ بنتے ہیں۔نائیجیریا میں 4 ہزار پاؤنڈ کے وعدے ہیں۔ان کے پاؤنڈ کی قیمت انگلستان کے پاؤنڈ کی قیمت سے کچھ بڑی ہے اس لئے عملاً اسے سات ہزار پاؤنڈ سمجھنا چاہیے۔اسی طرح ماریشس میں ۵۰ ہزار، تنزانیہ میں ۳۰ ہزار، مغربی جرمنی میں ۱۲ ہزار مارکس یعنی چوبیس ہزار روپیہ۔کینیڈا میں قریباً ۳ ہزار ڈالر۔ہندوستان میں قریباً ڈیڑھ لاکھ روپیہ یہ رتیں ہیں۔جتنا خرچ کرنے کو کہا گیا تھا اس سے دُگنی رقم تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دے دی ہے بعض ممالک جن میں ہمارا پاکستان بھی شامل ہے روپیہ باہر بھیجنے پر بہت بھاری پابندیاں ہیں اجازت نامے لینے پڑتے ہیں کئی خوشامد میں کرنی پڑتی ہیں۔کسی انسان کو کسی انسان کی خوشامد نہیں کرنی چاہیے۔ہمارا یہ اصول ہے اور ہر احمدی کا یہی اصول ہونا چاہئے لیکن اللہ تعالیٰ کے لئے تو ہم ہر چیز قربان کر دیتے ہیں۔ہمارا یہ ویسے ہی خالی کھو کھلا نعرہ نہیں ہے کہ ہم اپنی عزت کو خدا تعالیٰ کے لئے قربان کریں گے۔عزیز تیں اسی طرح قربان ہوتی ہیں کہ گالیاں سنیں اور ہنس پڑے۔لوگ سمجھتے ہیں کہ عزت قربان کر دی۔عزت کہاں قربان ہوئی۔اس سے کیا فرق پڑتا ہے یا یہ ہے کہ اگر خدا کے لئے پیسے لینے کے لئے خوشامد کرنی پڑے تو خوشامد کر دینی چاہئے اگلے کو خوش کر دینا چاہئے اس لئے یہاں یہ کرنا پڑتا ہے اور آئندہ بھی خدا تعالیٰ کے لئے کرتے رہیں گے۔