خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 505
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب جس مہدی کی بشارت دی گئی وہ آچکا ہے اور اس مہدی کا ایک خلیفہ آج تمہارے درمیان آ رہا ہے۔اس لیے تم آکر اس سے برکتیں حاصل کرو اور بعض شہر تو دس دس لاکھ کی آبادی کے ہیں ان میں انہوں نے یہ منادی کروائی۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ان کو بڑا پیار ہے اور اس لیے پیار ہے کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال کو پہچانا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور شان کو اور آپ کی قوت احسان کو پہچانا۔اس وجہ سے وہ مہدی معہود سے پیار کرتے ہیں۔سیرالیون کے ایک سابق نائب وزیر اعظم نے پیچھے پڑ کر ایک ریسپشن (Reception) دی اور اس میں انہوں نے تقریر کرتے ہوئے پہلے یہ کہا کہ آپ کو بھی پتہ ہے کہ میں احمدی نہیں ہوں لیکن جو بات سچ ہے وہ کہنے سے میں نہیں رہ سکتا اور یہ آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی جانتا ہوں کہ اس صدی کے شروع میں ہم غیروں کے سامنے اسلام کا نام لیتے ہوئے بھی شرماتے تھے پھر احمدی آگئے اور اب ہم فخر سے گردن اونچی کرتے ہیں اور اسلام کے متعلق بات کر رہے ہوتے ہیں اس نے اور بھی بہت سی باتیں کیں لیکن جو بات میں بیان کر رہا ہوں اس کنٹیکسٹ (context) میں یہی اتنا حصہ ہی ہے۔غرض جنہوں نے احمدیت کو پہچانا یا جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو پہچانا ان کے دلوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت اس لیے پیدا ہوئی کہ آپ کے طفیل وہ حسن جو چھپا ہوا تھا وہ ان کی نظروں کے سامنے آ گیا وہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے جلال اور اس کی زندہ قدرتوں کا زندہ نشان دیکھنے لگے اللہ تعالیٰ انہیں بڑی کثرت سے نشان دکھا رہا ہے۔آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ ہماری ایک احمدی بہن کی شادی کو چالیس سال ہو چکے تھے مگر اس کے ہاں لڑکا کوئی نہیں تھا غالبا بچہ ہی کوئی نہیں تھا۔مجھے مجھے یاد نہیں رہا لیکن لڑکا بہر حال کوئی نہیں تھا اور شادی کو چالیس سال کا عرصہ ہو چکا تھا۔اب اس نے میرے جانے سے دو تین سال پہلے بلکہ ۱۹۶۶ ء سے ہی کسی نے اسے توجہ دلائی۔اس نے مجھے خط لکھنے شروع کیسے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے دعا قبول کرتے ہوئے ۴۰ ۴۲ سال کے بعد اسے لڑکا دے دیا۔اب بوڑھی عورت ساری عمر اس کے دل میں یہ حسرت رہی کہ اس کے گھر لڑکا پیدا ہوتا مگر اللہ تعالیٰ نے اسے نہیں دیا۔پھر