خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 496 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 496

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۹۶ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے جو اسوہ رکھا ہے اس کی مثال دنیا پیش نہیں کر سکتی۔انسانی عقل وہ چیزیں آ ہی نہیں سکتی تھیں اور اس سے بہتر نمونہ کوئی دکھا ہی نہیں سکتا تھا۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان باتوں کا اور قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کرنے کا خیال رکھتے تھے اور صرف آپ ہی خیال رکھ سکتے تھے مثلاً قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا۔وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَتَّى لِلسَّابِلِ وَالْمَحْرُومِ (الدريت: ۲۰) کہ کچھ امیر اور دولتمند لوگ ایسے بھی ہیں جن کے سارے مال ان کے نہیں بلکہ کسی اور کا حق مارا گیا ہے جس نے ان کے اموال میں اضافہ کیا ہے اس لئے ”وَفي أَمْوَالِهِمْحَقُ لِلسَّابِلِ وَالْمَعْرُوْمِ ، محروم اور سائل کا حق ان کے مالوں کے اندر ہے وہ نکالنا چاہئے اور حق دار کو حق پہنچنا چاہیے۔قرآن کریم کی ایک آیت میں اتنا انذار ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حشر کے دن ایک گروہ ایسا ہوگا کہ میں فرشتوں سے کہوں گا۔جاؤ اور اس گروہ کو جہنم میں جھونک دو اور وہاں جہنم میں جھونکنے کی دو وجوہات بیان کی گئی ہیں۔ایک تو اس لئے کہ وسیع حکمتوں والے رب پر یہ لوگ ایمان نہیں لائے تھے اور دوسری وجہ یہ کہ لوگوں کو مسکینوں کو کھانا کھلانے کی رغبت نہیں دلاتے تھے اور نہ خودان کو کھلاتے تھے۔لوگ بھو کے مر رہے تھے اور یہ اُن کا خیال نہیں رکھتے تھے اور حکمتوں سے پر یہ ایک Universe ایک عالمین پیدا کیا گیا تھا اور یہ اس پر غور نہیں کرتے تھے۔پس یہاں صرف دو وجہیں بیان ہوئی ہیں ایک یہ کہ وسیع حکمتوں والے رب پر ایمان نہیں لاتے تھے اور دوسرے بھوکوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھے اس لئے انہیں جہنم میں جا کر جھونک دو۔پس جس مسلمان نے جہنم سے بچنا ہو یا جہنم سے بچا ہوا ہو تو وہ وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی حکمتوں پر غور کرتا اور اس کی ذات وصفات کی معرفت رکھتا ہے اور جس حد تک اس کے پاس مال ہے وہ اس کے ذریعہ خدا تعالیٰ کے بندوں کا خیال رکھتا ہے اور کسی کو بھوکا نہیں رہنے دیتا۔بھوک دور کرنے کی ذمہ واری تو اللہ تعالیٰ نے لی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم کھیتیاں پیدا کرتے ہو؟ تم نہیں پیدا کرتے ، میں پیدا کرتا ہوں۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایک فاحشہ عورت نے ایک جانور کے اوپر رحم کر کے پیاس کے وقت میں پانی دیا تھا۔اس نیکی کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے اُس فاحشہ عورت کے گناہ معاف کر دئیے اور اس کے لئے جنت کے دروازے کھول دیئے۔