خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 497
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۹۷ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب قرآن کریم اس بات سے بھرا پڑا ہے ایسی متعدد آیات ہیں جن میں یہ کہا گیا ہے کہ مسکین کا خیال رکھو، جائع ( بھوکے ) کا خیال رکھو۔معتر کا خیال رکھو۔سائل کا خیال رکھو۔محروم کا خیال رکھو۔دکھوں کی مختلف وجوہات کا ذکر کر کے یہ کہا گیا ہے کہ یہ تمہاری ذمہ واری ہے کہ تم ان دکھوں کو دور کرو۔اسلام نے استعدادوں کی نشو و نما کے کمال تک پہنچانے کے لئے ایک اعلیٰ نظام قائم کیا ہے اسلام کی نشاۃ اولی میں اس پر اس رنگ میں عمل ہوا کہ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ چونکہ اس سے بہتر اشتراکیت ہے اس لئے ہم اپنے دکھوں کے علاج کے لئے اسلام کی بجائے اشتراکیت کو رائج کریں گے۔کوئی عقل مند شخص یہ نہیں کہہ سکتا۔جیسا کہ میں نے ابھی مختصر آبتایا ہے اس اختصار سے بھی آپ کو یہ سمجھ آ گئی ہو گی کہ یہ ایک ایسی تعلیم ہے کہ انسانی دماغ وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتا۔اب جو غلط فہمیاں ہیں یا بعض لوگ شرا سے بھی اس سے الٹ نعرے لگا رہے ہیں۔وہ غلطی خوردہ ہیں۔ہم تو کسی کے دشمن نہیں۔دنیا ہماری دشمن ہوتی رہے۔ان کے لئے دعا کرنی چاہئے اور کسی کے خلاف جھوٹا الزام لگا کر اس پر گرفت نہیں کی جاسکتی۔یہ بڑی معقول بات ہے کیونکہ جھوٹا الزام لگا کر یہ کہنا کہ سزا دے دو۔یہ تو نہ قانوناً جائز ہے اور نہ عقلاً اور شرعا ور نہ تو دنیا میں امن قائم نہیں رہ سکتا۔قانون نے یہ تو کہا ہے کہ اگر سچا الزام بھی ہو مگر ثابت نہ ہو تو سزا نہیں دینی۔بہت احتیاط برتی ہے۔لیکن کیا کسی قانون، کسی شریعت اور کسی عقل میں یہ بات آ سکتی ہے کہ جھوٹا الزام لگاؤ۔جھوٹے گواہ پیش کرو اور سزا دے دو اور کہہ دو اس میں خیر اور بھلائی ہے۔اس طرح تو امن اُٹھ جائے گا اور اطمینان قلب باقی نہیں رہے گا اس لئے غلط الزام نہیں لگانے چاہئیں۔لیکن ہو سکتا ہے کہ ہمارے ملک میں بعض لوگ ایسے ہوں جنہوں نے اسلام کے متعلق کچھ علم حاصل ہی نہ کیا ہو اور وہ دیانتداری سے یہ سمجھتے ہوں کہ اس ملک میں دکھوں کا علاج اشتراکیت ہے۔ان کو ہم ہیں سمجھانے والے۔میں بہتوں سے ملا ہوں۔اس لحاظ سے میں نے بہت۔کمیونسٹ مسلمان بنائے ہیں۔اکثر لوگ غلطی خوردہ ہیں یعنی اسلام سے پیار بھی ہے اور اسلام بعد بھی۔ایک ہی وقت میں اُن میں متضاد چیزیں تھیں۔چنانچہ جب میں نے ان کو بتایا تم کدھر جا رہے ہو۔اس سے حسین تعلیم کی طرف تو خدا تمہیں بلاتا ہے تو پھر ان کو سمجھ آ گئی۔لیبل ہی تھا نا لگا ہوا ، ----