خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 445
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۴۵ ۲۷ دسمبر ۱۹۷۰ء۔دوسرے روز کا خطار بنیادی حقیقت کو نہیں بھولنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ہر سچائی اور صداقت جو انسان ڈسکوز (Discover) یا معلوم کرتا ہے وہ قرآن کریم کی کسی نہ کسی آیت کی تفسیر ہے۔قرآن سے زائد ہو ہی نہیں سکتا۔قرآن کریم کا یہ دعویٰ ہے اسے ثابت کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں زندہ کیا اور پیدا کیا ہے اور زندہ رکھا ہے۔پس ہمیں دیکھنا چاہئے کہ جو علوم انسان کے ہاتھ میں آج دیئے جا رہے ہیں ان میں صداقت ہے یا ضلالت۔اگر ان میں صداقت ہے تو ہم ثابت کریں گے کہ وہ قرآن کریم کی فلاں آیت کی تفسیر ہے اور اگر ان میں ضلالت ہے تو ہم ثابت کریں گے کہ وہ جھوٹ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ جو سارے نئے علوم ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں اسلام کا خادم بنایا ہے اور آپ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری جماعت کو یہ توفیق عطا کرے گا کہ ان کے اندر جو غلط باتیں ہیں ان کو نمایاں کر کے دنیا کے سامنے رکھ دیں۔بڑے بڑے فلسفی بڑے دعووں کے ساتھ اپنے نظریات کو دنیا کے سامنے رکھیں گے۔اگر وہ غلط ہوں گے تو ایک غیر معروف سا احمدی کھڑا ہوگا۔وہ کہے گا کہ تم فلسفی ہو گے اپنی جگہ، میں تو خدا کا ایک عاجز بندہ ہوں ،ایک عاجز خادم ہوں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مزدور ہوں۔میں تمہیں بتا تا ہوں کہ جو تم نے باتیں کی ہیں ، وہ غلط ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے وعدہ دیا ہے۔خدمت لینے کے یہ وعدے اور ضلالت کو دور کرنے کی قابلیت کے یہ وعدے تبھی پورے ہو سکتے ہیں کہ ہم کتابوں کو پڑھیں جتنی دلچسپی ہم لے رہے ہیں جماعت کو اس سے زیادہ دلچسپی کتابوں میں لینی چاہئے۔جو کتب شائع ہوئی ہیں یا جن کے نئے ایڈیشن اس سال نکلے ہیں ان کا میں تعارف کرادیتا ہوں۔اصلاح و ارشاد کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقتباسات کا مختصر خلاصہ رسالے کی شکل میں شائع کیا گیا ہے جس کا عنوان ہے ”ہم مسلمان ہیں“۔یہ جو لوگ اعتراض کرتے رہتے ہیں کہ تم خدا کو نہیں مانتے تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانتے ، ان کو یہ رسالہ پڑھ کر پتہ لگ جائے گا کہ غلط باتیں کانوں میں پڑیں اور بغیر تحقیق کے مان لی گئی ہیں۔اس رسالے کی بھی اشاعت کثرت سے ہونی چاہئے۔چھوٹا سا ہے اورستا بھی ہوگا۔