خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 346
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۴۶ ۲۶ دسمبر ۱۹۶۹ء۔افتتاحی خطاب اور طلب کروں۔میری جان آپ پر قربان میں ہمیشہ آپ کے لئے ہر رنگ میں دعائیں کرتا رہتا ہوں۔آپ جب اس جلسہ کے لئے سفر شروع کرتے ہیں تو میرے دل میں بڑی فکر پیدا ہوتی ہے۔سفر کی تکالیف ہیں۔سفر کے حادثات ہیں۔سفر کی پریشانیاں ہیں۔میں ان کو سوچتا ہوں اور اپنے رب کریم کے حضور جھک کر آپ کے لئے اس کی حفاظت اور امان چاہتا ہوں۔جب آپ یہاں آ جاتے ہیں مجھے یہ فکر دامنگیر رہتی ہے کہ کہیں کوئی مخلص رضا کاروں کی کسی غفلت کے نتیجہ میں آپ میں سے کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔پھر مجھے یہ فکر رہتی ہے کہ خود آپ کے نفوس آپ کی پریشانی کا باعث نہ بنیں۔جس مقصد کے لئے آپ یہاں آئے ہیں اس کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور متضرعانہ دعاؤں کی توفیق پائیں۔اور جلسہ میں شامل ہو کر خدا اور اس کے رسول کی باتیں سنیں۔انہیں سمجھیں اور یہ عہد کریں کہ یہ ارشادات اللہ کا یہ پیغام قرآن عظیم ہم پر جوذ مہ داریاں عائد کرتا ہے۔خدا تعالیٰ اپنے فضل سے ان ذمہ داریوں کو نباہنے کی توفیق بخشے۔کہیں یہ مقصد آپ کی نظر سے اوجھل نہ ہو جائے۔اور میں آپ کے لئے ہر وقت ہر آن دعا میں لگا رہتا ہوں کہ اے خدا! جہاں تو نے میرے ان بھائیوں کو اور میری ان بہنوں کو یہ تو فیق عطا کی کہ وہ تیری رضا کے حصول کے لئے تیرے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سُننے کے لئے تیرے مسیح محمدی علیہ السلام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس جلسہ میں شامل ہونے کے لئے آئے ہیں۔جہاں تو نے ان کو یہ توفیق بخشی اور تو نے ان کو سفر کی تکالیف اور حادثات سے بچایا اور محفوظ رکھا۔جہاں تو نے اپنے فضل سے مخلص رضا کاروں کو یہ توفیق بخشی کہ وہ انتہائی کوشش اور جدو جہد سے اپنے آنے والے بھائیوں کی خدمت کریں اور یہ خیال رکھیں کہ انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچے۔وہاں تو میرے ان بھائیوں کو ان کے نفوس کی آفات سے بھی محفوظ رکھ۔وہ اپنے وقتوں کو ضائع نہ کریں۔وہ اپنی توجہ کو اپنے مقصود سے ہٹا ئیں نہ۔وہ جس غرض کے لئے آئے ہیں اس غرض کو حاصل کرنے کے لئے انتہائی کوشش کریں اور تیرا فضل پائیں اور ان کی یہ کوشش مقبول ہو اور تیرے فضل سے وہ اپنے مقصود کو حاصل کریں اور دین اور دنیا کی نعمتوں سے اپنی جھولیوں کو بھر کر اپنے گاؤں اور گھروں کو واپس لوٹیں۔سارا سال جو دعائیں میں آپ دوستوں کے لئے کرتا رہتا ہوں وہ سورۂ فاتحہ کی دعائیں