خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 334 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 334

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۳۴ ۲۸ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب کی برکتیں شروع نہیں ہو گئیں بلکہ اس کی راہیں ازلی ہیں ) ( حبقوق باب ۳ آیت ۴۰۳) اسی برنباس کی انجیل میں حضرت یسوع کے منہ سے یعنی ان کی یہ شہادت بیان ہوئی ہے کہ انہوں نے سوال کے جواب میں کہا: تحقیق خدا کی نشانیاں جو اللہ میرے ہاتھ سے نمایاں کرتا وہ ظاہر کرتی ہیں کہ میں وہی کہتا ہوں جو خدا کا ارادہ ہوتا ہے ( میں اپنی طرف سے نہیں کرتا جو اللہ نے کہا ہے وہ میں تمہیں پہنچا رہا ہوں اور جو اللہ نے کہا ہے وہ کیا ہے یہ ہے کہ ) اور میں اپنے آپ کو اس کا مانند شمار نہیں کرتا جس کی نسبت تم کہہ رہے ہو ( کہ تو وہی ہے یعنی خیال کیا جس کا ہم انتظار کر رہے تھے سارے انبیاء نے اس کی پیشگوئی کی ہوئی تھی تو یسوع نے جواب دیا کہ میں اپنے آپ کو اس کا مانند نہیں شمار کرتا جس کی نسبت تم کہ رہے ہو ) کیونکہ میں اس کے لائق بھی نہیں ہوں کہ اس رسول اللہ کے جوتے کے بند یا نعلین کے تسمے کھولوں جس کو تم مستیا کہتے ہو وہ جو کہ (اب یہ فقرہ بھی وہی ہے لو لاک لما خلقت الافلاک اور وہ حدیث جو ہے ) میرے پہلے پیدا کیا گیا اور اب میرے بعد آئے گا اور وہ بہت کلام حق کے ساتھ آئے گا اور اس کے دین کی کوئی انتہاء نہ ہوگی۔“ (انجیل برنباس کا اردو تر جمه بیالیسویں فصل صفحه ۶۶ آیت ۱۳ تا ۱۷) اور بھی حوالے ہیں۔وقت تنگ ہے میں یہ سمجھتا ہوں تھا کہ اس بات کو ذہن نشین کرنا بڑا ضروری ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جو عظیم دعویٰ ہے کہ میں خاتم النبین ، انسان کامل اور اشرف المخلوقات پیدائش کا ئنات سے بھی پہلے تھا۔یہ محض ایسا دعوی نہیں جو کسی نے آپ کی طرف منسوب کر دیا ہو۔چنانچہ خود راوی جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا وہ معتبر اور ثقہ اور پھر جتنا سلسلہ روایت ہے وہ ضعیف نہیں۔پھر علمائے اسلام نے اس حدیث کو سچا سمجھا اور بعض حقائق کے بیان کے لئے اسے بنیاد بنایا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو دنیا میں اشاعت ہدایت قرآن کرنے کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔انہوں نے بھی قرآن کریم کی روشنی میں اس حدیث کا وہی مفہوم سمجھا جو ایک سمجھنے والا سمجھ سکتا ہے اور اس کی کوئی تعبیر نہیں کی۔یہ ایک اور شہادت ہے اور سب کے آخر میں میں نے پہلے انبیاء علیہم السلام کی شہادت پیش کی ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر انبیاء علیہم السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کا علم دیا جاتا