خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 333
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۳۳ ۲۸ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب میں تیرا شکر کروں گا کیونکہ تو نے مجھے جواب دیا اور خود میری نجات بنا ہے جس پتھر کو معماروں نے رد کیا وہی کونے کے سرے کا پتھر ہو گیا یہ خداوند کی طرف سے ہوا اور ہماری نظر میں عجیب ہے یہ وہی دن ہے ( کل میں نے بتایا تھا نا کہ عید کا دن شروع ہو گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ۔جسے خداوند مقرر کیا ہم اس میں شادمان ہوں گے اور (زبور باب ۱۱۸ آیت ۱۲ تا ۲۴) خوشی منائیں گے۔“ اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے یہ کہہ کر تاکید کی : اس کا منہ شرینی ہے ہاں وہ سرا پا محمد یم ہے اے پر شلم کی بیٹیو: “ حضرت حبقوق نبی نے یہ پیشگوئی کی: (غزل الغزلات باب ۵ آیت ۱۶) خدا تیمان سے آیا اور قدوس کوہ فاران سے۔سلاہ: ( یعنی وہ قدوس کوہ فاران سے آئے گا۔انہوں نے دیکھا کہ یہ ہو گیا ہے غالباً کشف میں آپ کو بتایا گیا ) اس کا جلال آسمان پر چھا گیا اور زمین اس کی حمد سے معمور ہوگئی ( یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کی جگمگاہٹ نور کی مانند تھی اللهُ نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُوْرِهِ كَمِشْكُورٍ - مَثَلُ نُورِهِ میں کی ضمیر کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پھرتی ہے۔جس طرح خدا نور ہے وہ بھی نور تھا) اس کے ہاتھ سے کر نہیں نکلتی تھیں ( قرآن کریم مجسم نور ہے تین مختلف جگہوں کے شعر میں نے اسی لئے ہی پڑھوائے تھے کہ وہ مضمون کو Cover کرتے تھے۔) اور اس میں اس کی قدرت نہاں تھی جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی اور بعد میں بھی آپ کی ظلیت میں اللہ کی قدرت کے جلوے انسان نے ظلی انسانوں میں دیکھے ) وہ اس کے آگے آگے چلتی تھی ( یعنی حوادث زمانہ اس کی خدمت میں لگی ہوئی تھیں جب ) وہ کھڑا ہوا اور زمین تھرا گئی اس نے نگاہ کی اور قو میں پراگندہ ہوگئیں (یہ قرآن کریم کی ساری پیشگوئیاں ہیں جن کے متعلق یہاں اشارے ہیں ) از لی پہاڑ پارہ پارہ ہو گئے قدیم ٹیلے جھک گئے (اب یہ ہے اس کی شان ) اس کی راہیں ازلی ہیں ( یعنی جس دن سے وہ مبعوث ہو گا اس دن سے اس