خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 332 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 332

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۳۲ ۲۸ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب کے لئے انسان پیدا کیا گیا تا کہ صفات باری کا مظہر بنے۔جس کے اوپر یہ مہرلگی کہ واقعی یہ انسان یعنی ایسے مظہر ہیں جو دنیا کے سامنے پیش کئے جانے کے قابل ہیں) اور یہ شخص جس کو تو نے دیکھا ہے تیرا ہی بیٹا ہے جو کہ اس وقت کے بہت سے سال بعد دنیا میں آئے گا اور وہ میرا ایسا رسول ہو گا کہ اس کے لئے میں نے سب چیزوں کو پیدا کیا ہے (لولاک لما خلقت الافلاک ) وہ رسول کہ جب آئے گا دنیا کو ایک روشنی بخشے گا ( ایک قوم ایک زمانہ کے لئے نہیں ہوگا) وہ نبی ہے کہ اس کی روح ایک آسمانی روشنی میں ساٹھ ہزار سال قبل اس کے رکھی گئی تھی کہ میں کسی چیز کو پیدا کروں“ (انجیل برنباس کا ترجمہ مطبوعہ ۱۹۱۶ طبع دوم صفحه ۶ فصل انتالیسویں آیت ۱۴ تا۲۲) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: اور یہ وہ برکت ہے جو موسیٰ مرد خدا نے اپنے مرنے سے آگے بنی اسرائیل کو بخشی اور اس نے کہا (یعنی یہ خوشخبری دی کہ میں جسمانی طور پر تم سے جدا ہورہا ہوں اور میرا زمانہ نبوت ابھی وقتی اور عارضی ہے وہ جو جدا ہو جائے گالیکن میں تمہیں ایک برکت بخش جاتا ہوں ) کہ خداوند سینا سے آیا اور شعیر سے ان پر طلوع ہوا فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آیا اور اس کے دھنے ہاتھ ایک آتشی شریعت ان کے لئے تھی، (استثناء باب ۳۳ آیت ۲۱ بائیل مطبوعه۱۸۷۰ء شائع کردہ نارتھ انڈیا بیل سوسائٹی مرزا پور ) اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے اس پیشگوئی کو بھی لے کر اس پر تفصیلی تنقید کی ہے اور آپ نے فرمایا ہے کہ تو رات ہمیں بتاتی ہے کہ فاران مکہ کا پہاڑ ہے اور وہ جو فاران ہی کے پہاڑ سے جلوہ گر ہوا سوائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی اور پر یہ فقرہ لگتا نہیں۔اور خداوند سینا سے آیا اس کا مطلب یہ ہے کہ فاران کے پہاڑ پر جو اللہ تعالیٰ کا جلوہ ظاہر ہوا ہے وہ اپنے کمال کو پہنچا ہوا تھا اس قدر کمال کو کہ اس جلوے کی وجہ سے جس ہستی نے اس کے اس جلوے کو قبول کیا اور اس روشنی کو اس دنیا میں پھیلایا بوجہ مظہر اتم الوہیت کے ہونے کے اس کا آنا خدا کا آنا ہی قرار دیا جا سکتا ہے اسی واسطے فرمایا خداوند سینا سے آیا۔حضرت داؤد علیہ السلام نے بشارت دی: