خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 317 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 317

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۱۷ ۲۸ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب گہری ہدایتوں پر وہ مشتمل ہو تو اگر چہ اس کا راوی جو ہے وہ کمزور ہے اسے قبول کر لو کیونکہ کمزورمنہ سے جب وہ کمزوری دکھا رہا ہو ( اور انسان بہر حال کمزور ہے ) تو اس سے قرآن کی شان کی بلندی کے لئے بات نہیں نکلے گی۔تو جب ہم درایت کو دیکھتے ہیں تو ہمیں بڑے بڑے اکابر علماء اس حدیث کی تائید میں نظر آتے ہیں۔چند حوالے میں نے لئے ہیں وہ میں آپ کو بتاتا ہوں۔ایک حوالہ حضرت شیخ تقی الدین سبکی جو قریباً ڈیڑھ سو کتب کے مصنف تھے ان کی وفات غالباً ۱۳۴۹ ء میں ہوئی وہ لکھتے ہیں: آپ کی نبوت اور رسالت آدم کے زمانہ سے قیامت تک کے لئے تمام مخلوق کے لئے عام ہے اور تمام انبیاء اور ان کی امتیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہوں گی اور حضور کا یہ قول کہ بُعثتُ إِلى النَّاسِ كَافَّةً میں صرف آپ کے زمانہ سے لے کر قیامت تک کے لوگ مراد نہیں بلکہ آپ سے پہلے زمانے کے لوگ بھی مراد ہیں اور اس مفہوم کی تشریح اس حدیث سے ہوتی ہے جس میں آیا ہے كُنتُ نَبِيَّا وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوْحِ وَالْجَسدِ وہی حدیث انہوں نے روایت کے لحاظ سے لی ہے اور اُن کے معنے بیان کئے ہیں پھر آگے انہوں نے ایک اور لطیف مضمون بیان کیا ہے ) اور جس نے اس کی تفسیر یہ کی کہ اللہ کے علم میں تھا کہ آپ نبی ہوں گے ( یعنی یہ جو حدیث ہے کہ میں نبی تھا اور آدم کی پیدائش ابھی نہیں ہوئی تھی جو شخص اس کی یہ تفسیر کرتا ہے کہ اللہ کے علم میں تھا کہ آپ نبی ہوں گے ) اس نے اس کے مفہوم کو سمجھا نہیں۔اللہ کا علم تو تمام اشیاء پر حاوی اور محیط ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اس وقت بیان تقاضا کرتا ہے کہ ہم یہ سمجھیں کہ امر نبوت اس وقت آپ کے لئے قائم و ثابت تھا اس لئے تو آدم علیہ السلام نے اسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم عرش پر لکھا دیکھا تھا۔پس ضروری ہے کہ یہ مفہوم اس وقت بھی قائم اور ثابت ہو پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقت آدم کی تخلیق سے قبل تھی۔اللہ تعالیٰ نے حضور کو اس وقت سے یہ وصف عطا فر مایا تھا مراد یہ کہ اس حقیقت محمدی کی تخلیق تیار تھی اور نبوت کی نعمت اس وقت سے آپ کو عطا کی گئی تھی۔“ ( ترجمہ الخصائص الکبری جلد ا صفحه ۴ - ۱۵ از علامہ جلال الدین سیوطی )