خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 296
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۹۶ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطار محاورہ کی طرح وفا اور دوستی میں باز نہ آنے کا محاورہ ہے۔خدمت میں بال نہیں آنا چاہتے کہ ظاہر میں تو وہ سلامت ہو لیکن بال آچکا ہو اور وہ بے فائدہ، بے حقیقت اور بے قیمت چیز بن کر رہ گئی ہو۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ خالص خلوص نیت اور خلوص کوشش اور حسن تدبیر کے ساتھ آپ کی تسکین کے جو سامان پیدا کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔وہ اپنی ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے آپ کے لئے پیدا کر سکیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت اور خاص فضل کے بغیر ممکن نہیں۔اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتیں اور اس کے خاص فضل آپ کے بھی اور ہمارے بھی شامل حال رہیں۔ނ جتنی کتابیں شائع ہوئی ہیں وہ آپ کے فائدہ کے لئے شائع ہوئی ہیں آپ میں۔جنہیں اللہ تعالیٰ مالی لحاظ سے اور دل کے شوق اور دل کی پیاس کے لحاظ سے توفیق دے ان کو چاہئے کہ وہ یہ کتابیں خریدیں۔پھر ہمارے رسالے ہیں یعنی الفرقان ہے ریویو آف ریلیجنز ہے۔تحریک جدید کا رسالہ ہے انصار اللہ ہے خدام احمدیہ کا رسالہ ہے لجنہ اماءاللہ کا رسالہ ہے بچوں کا رسالہ ہے جس جس ماحول کے لئے یہ رسالے شائع کئے جارہے ہیں اس ماحول میں ان کا پہنچنا ضروری ہے۔اگر یہ نہیں پہنچیں گے تو ہمارا دعوالی ایک خیال اور ایک غیر حقیقی اعلان ہوگا۔اس کے پیچھے روح نہیں ہو گی۔ایک مردہ اور بے روح جسم ہوگا۔آپ اسے ایسا نہ بنائیں۔پھر الفضل ہے الفضل ہر احمدی کو پڑھنا چاہئے یا سننا چاہئے اور الفضل سے بھی خصوصاً خلیفہ وقت کا پیغام جو مختلف موقعوں پر وہ دے آپ کے پاس آنا چاہئے۔یہ چیز دوسرے نمبر پر ہے بنیادی چیز جو مستقل بھی ہے اور ہمیشہ کے لئے اور ساری دنیا کے لئے ہے وہ قرآن کریم کی تفسیر ہے۔لیکن ضرورت وقت کے لحاظ سے خلیفہ وقت کا پیغام بھی قرآن کریم کی تفسیر ہی ہے یا اس تفسیر میں جو اللہ تعالیٰ عملاً برکت پیدا کرتا ہے اور اس کا عملاً ایک مادی نتیجہ نکلتا ہے مثلاً اسلام کی کامیابیاں غیر ممالک میں اور ان کی رپورٹیں ہیں ان کا ضرور علم ہونا چاہئے۔یہاں سے سات ہزار میل کے فاصلہ پر ایک چھوٹے سے گاؤں میں جو پانچ احمدی گھرانے ہیں اگر ان کے علم میں یہ بات نہیں آتی تو ان کے دلوں میں بشاشت پیدا نہیں ہو گی۔ان کو یہ احساس نہیں ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کس رنگ میں اور کس طور پر اپنی رحمتیں جماعت احمدیہ پر نازل کر رہا ہے اور ہمیں اس کا