خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 19
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۹ ۲۰ دسمبر ۱۹۶۵ء۔دوسرے روز کا خطار جذبہ پر ہوتی ہے جہاں اُسے اخلاص تقوی، شوق ، فدائیت ، تذلل نظر آئیں گے۔وہاں اس کا رحم بھی جوش میں آئے گا اور ایسے لوگوں کے کاموں میں اس کی طرف سے برکت دی جائے گی۔غرض بہت سے کم علم معلم اپنے کام کے لحاظ سے ان مربیوں سے آگے نکل گئے ہیں جن کا علم اور تجربہ نو دس سال سے زیادہ کا تھا۔غرض نتیجہ زیادہ تر انکسار اور دعا سے نکلتا ہے کیونکہ دعا کے نتیجہ میں قوت جذب پیدا ہو جاتی ہے اور جب کسی میں قوت جذب پیدا ہوتی ہے تو پھر غیر اس کی طرف خود بخود کھیچ آتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ یہ کوئی عجیب آدمی ہے پھر بچکچاہٹ کے ساتھ شرماتے شرماتے اُسے دعا کے لئے کہہ دیتا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنی تقدیر کی تار ہلاتا ہے اور وہ دعا قبول ہو جاتی ہے تو صرف وہی نہیں بلکہ اس کے ماحول میں رہنے والے دوسرے لوگ بھی یہ خیال کرنے لگ جاتے ہیں کہ یہ لڑکا ہے تو کم عمر کا اور تعلیم بھی اس کی زیادہ نہیں لیکن اس کا اللہ تعالیٰ سے تعلق ضرور ہے۔کیونکہ یہ دعا کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کی دعاؤں کو سن لیتا ہے اور انہیں قبول کر لیتا ہے اس طرح علاقہ کے بہت سے لوگ اس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں اور وہ انہیں اپنی باتیں سنانے کے قابل ہو جاتا ہے اور چونکہ اس کی باتیں کچی ہوتی ہیں اور کچی باتوں کا دلوں پر اثر ہوتا ہے اس لئے لوگ اس کی باتوں کو مان لیتے ہیں اور احمدیت پھیلنا شروع ہو جاتی ہے۔غرض وقف جدید انجمن احمد یہ بڑا اچھا کام کر رہی ہے لیکن اس میں ابھی پھیلاؤ اور وسعت کی بڑی گنجائش ہے۔اس وقت اس کے پاس ساٹھ ستر یا اتنی معلم ہیں لیکن ہمیں ساٹھ ستر ، استی ہزار معلموں کی ضرورت ہے اتنے معلم کہاں سے آئیں گے فرشتے تو آسمان سے اس کام کی غرض سے آئیں گے نہیں اور نہ ہم مٹی کے بُت بنا کر ان میں جانیں ڈال سکتے ہیں۔پس یہ معلم آپ نے ہی مہیا کرنے ہیں آپ ہی اپنے بچوں کو پیش کریں گے تو معلم تیار ہوں گے اس لئے جس طرح آپ صدر انجمن احمدیہ کو اپنے بچے پیش کریں۔جس طرح آپ تحریک جدید کو اپنے بچے پیش کریں۔اسی طرح چاہئے کہ وقف جدید کو بھی اپنے بچے پیش کریں اگر آپ ہر سہ قسم کے وقف کی صحیح معنی میں ذمہ داری اُٹھالیں چاہے وہ وقف صدر انجمن احمدیہ کے لئے ہو، تحریک جدید کے لئے ہو یا وقف جدید کے لئے ہو تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ خدا تعالیٰ چند سال کے اندراندراس ملک میں انقلاب عظیم پیدا کر دے گا اور ہم اپنی آنکھوں سے اس انقلاب عظیم کا مشاہدہ کریں گے۔