خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page iii of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page iii

بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم و على عبده المسيح الموعود هو النـ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ پیش لفظ سیدنا حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے فرمودہ خطابات المسیح کی جلد اول پیش خدمت ہے۔یہ جلد ۱۹۶۵ء سے ۱۹۷۳ ء تک کے جلسہ سالانہ کے افتتاحی خطاب، دوسرے روز کے خطاب اور اختتامی خطابات پر مشتمل ہے۔ان تقاریر کی کل تعداد ۲۴ ہے جن میں سے ۱۶ تقاریر غیر مطبوعہ ہیں اور پہلی دفعہ شائع کی جارہی ہیں۔حضور رحمہ اللہ کے مستورات سے خطابات لجنہ اماءاللہ پاکستان نے المصابیح کے نام سے الگ شائع کئے ہیں اس لئے انہیں اس جلد میں شامل نہیں کیا گیا۔جن مقدس وجودوں کو خدائے قادر مقام خلافت پر فائز کرنے کے لئے منتخب فرماتا ہے انہیں اپنی غیر معمولی تائید و نصرت سے نوازتا ہے۔ان کی زبانِ مبارک سے حقائق و معارف اور دقائق و لطائف جاری فرماتا ہے۔اس جلد میں مندرجہ ذیل اقتباسات جماعتی نقطہ نگاہ سے خاص اہمیت کے حامل ہیں۔(۱) ۱۹؍دسمبر ۱۹۶۵ء کو اپنی خلافت کے پہلے جلسہ سالانہ کے افتتاحی خطاب کے موقع پر فرمایا:۔”اے جان سے زیادہ عزیز بھائیو! میرا ذرہ ذرہ آپ پر قربان کہ آپ کو خدا تعالیٰ نے جماعتی اتحاد اور جماعتی استحکام کا وہ اعلیٰ نمونہ دکھانے کی توفیق عطا کی کہ آسمان کے فرشتے آپ پر ناز کرتے ہیں۔آسمانی ارواح کے سلام کا تحفہ قبول کرو۔تاریخ کے اوراق آپ کے نام کو عزت کے ساتھ یاد کریں گے اور آنے والی نسلیں آپ پر فخر کریں گی کہ آپ نے محض خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر اس بندہ ضعیف اور ناکارہ کے ہاتھ پر متحد ہو کر یہ عہد کیا ہے کہ قیام تو حید اور