خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 268
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۶۸ ۲۷ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطاب غرض گواحد کا دن بڑا سخت تھا لیکن یہ دن بھی جماعت مسلمین کے لئے عید کا دن ہی تھا اور یہی جذبات ان کے دل میں تھے کہ ہم نا کام نہیں ہوئے بلکہ یہ دن ہمارے لئے عید کا دن ہے اور اس عید کے دن کی بڑی وجہ یہ تھی کہ دشمن اپنے اس مقصد میں ناکام ہوا تھا کہ وہ محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم کو قتل کر دے اور دوسرے یہ دن عید کا دن اس لئے تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر فرمایا کہ اس قسم کے حالات آئندہ مسلمانوں پر نہیں آئیں گے غرض عظیم بشارت لے کر یہ دن آیا ، عظیم حفاظت لے کر یہ دن آیا اور ایک نہایت عظیم معجزہ اس دن اللہ تعالیٰ کی جماعت نے دیکھا۔پس یہ دن بھی باوجود انتہائی سخت ہونے کے اسلام کے لئے اور مسلمانوں کے لئے عید کا دن تھا۔اُحد کے موقع پر ہی ایک اور بڑھیا عورت گھبراہٹ میں مدینہ سے نکلی۔رستہ میں صحابہ کا ایک گروہ اسے ملا جس میں اس کے بیٹے حضرت سعد بن معاذ رئیس مدینہ بھی تھے۔اس بڑھیا یعنی حضرت سعد بن معاذ کی والدہ کی نظر بھی کمزور تھی۔جنگ احد میں اس کا بیٹا عمرو بن معاذ شہید ہو گیا تھا۔حضرت سعد بن معاذ نے جب اپنی والدہ کو آتے دیکھا تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا۔یا رسول اللہ صلی علیہ وسلم میری والدہ آرہی ہیں۔آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ کی برکتوں کے ساتھ آئے۔بڑھیا آگے بڑھی اور اس نے پھٹی ہوئی آنکھوں کے ساتھ ادھر اُدھر دیکھا کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نظر آ جائیں۔آخر جب اس کی نظر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑی اور اس نے آپ کو پہچان لیا تو وہ خوش ہو گئی اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے یہ کہا کہ میں آپ کے بیٹے کی شہادت پر آپ سے ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں تو اس نے آگے سے ب دیا کہ جب میں نے آپ کو سلامت دیکھ لیا تو یہ سمجھ لیں کہ میں نے ساری مصیبتوں کو بھون کر کھالیا۔مجھے اور کسی کی پرواہ نہیں۔ان دو واقعات کے علاوہ اور بھی بہت سے واقعات ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دن جو بظاہر سخت تھا مسلمانوں کے لئے عید کا دن ہی تھا کیونکہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو زندہ سلامت واپس آتے دیکھ لیا حالانکہ آپ کے لئے انتہائی خطرناک حالات پیدا ہو گئے تھے۔دوسری جنگ احزاب ہے جس میں بڑے خطر ناک حالات پیدا ہو گئے تھے سارا عرب اکٹھا ہو کر مدینہ پر حملہ آور ہوا تھا اور مدینہ گھیرے میں آ گیا تھا۔علاوہ اور مصیبتوں کے کھانے کی بھی کمی