خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 269 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 269

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۶۹ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطار تھی۔ان دنوں خوراک کی کمی تھی۔مسلمان بڑی تکلیف میں تھے وہ پیٹ پر پتھر باندھ کر پھرا کرتے تھے۔اس حالت میں ان سختی کے ایام میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے عید کے سامان پیدا کئے تھے۔ایک تو یہ کہ الہی بشارت کے مطابق کفار نا کامی سے واپس لوٹے اور دوسرے یہ کہ عین ان تنگی کے ایام میں اللہ تعالیٰ نے دنیا کی دوز بر دست طاقتوں کے مغلوب ہونے کی خبر مسلمانوں کو دی اور بتایا کہ قیصر و کسری کی سلطنتیں تمہارے ہاتھوں مغلوب ہوں گی اور اسلام پھیل جائے گا۔گو یا اس تنگی کے زمانہ کو اللہ تعالیٰ نے خوشی اور مسرت کے زمانہ میں بدل دیا۔پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو عید ہمارے لئے لے کر آئے وہ عید قیامت تک چلنے والی ہے۔دنیا کی تکالیف اور دنیا کی آزمائشیں اس عید کی ماہیت اور حقیقت کو بدل نہیں سکتیں۔ایک مسلمان پر بظاہر دنیوی لحاظ سے مصائب کا پہاڑ ہی کیوں نہ ٹوٹ پڑے اس کے دل میں عید کی خوشی اور مسرت کو قائم رکھا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا کر دیتا ہے کہ اس کے لئے خوشیاں مہیا ہو جاتی ہیں۔عید کے یہ معنی نہیں ہیں۔ہماری جو عام عید ہے اس کی مثال میں دیتا ہوں کہ اس دن کوئی گھر میں تکلیف نہیں اٹھاتا بلکہ اس دن ماں کو تو ایک مصیبت پڑی ہوئی ہوتی ہے وہ گھر کی صفائی کر رہی ہوتی ہے۔کھانوں کا انتظام کر رہی ہوتی ہے عام حالت کی نسبت اسے بہت زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔اگر کسی گھر میں نوکر ہیں تو اس دن نوکروں کو بھی بہت زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔پھر اس کوعید کیوں کہتے ہیں دنیوی آنکھ تو اس دن عید کی خوشی دیکھ رہی ہوتی ہے۔میں ایک متقی اور پر ہیز گار مسلمان کی بات نہیں کر رہا۔عام دنیا دار اس دن عید کی خوشی ہی دیکھتا ہے کہ کھانا پینا ہے، ہنسی مذاق ہے ( اس کی ساری خوشیاں ان چیزوں میں ہیں) لیکن اس دن گھر والوں کو ہزار کام کرنے پڑتے ہیں غیر معمولی طور پر وہ کام کا دن ہوتا ہے۔زیادہ کھانے پکانے ہوتے ہیں۔زیادہ صفائی کرنی پڑتی ہے وغیرہ وغیرہ۔پس حقیقتا عید کے معنی یہ ہوئے کہ خوشی اور مسرت کے لمحات تکالیف سے زیادہ ہیں اور تکلیف خوشیوں کے اندر دبی ہوئی ہے اور ان خوشیوں پر معمولی معمولی تکلیفیں قربان ہورہی ہیں۔ماں اپنے وقت کی قربانی دے رہی ہوتی ہے۔اپنے جسم کی طاقت خرچ کر رہی ہوتی ہے۔وہ تھوڑے سے وقت کے لئے جس میں گھر والے باہم بیٹھیں۔مل