خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 252
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۵۲ ۱۳ جنوری ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب لیا اور کئی نسلوں تک ان کی وہاں حکومت رہی اور وہ دور حکومت سالکین بادشاہوں کے دور حکومت کے نام سے تاریخ میں یاد کیا جاتا ہے اب دیکھو انہوں نے ایک دھیلہ بھی بیت المال سے نہیں مانگا تبلیغ رضا کارا نہ تھی۔گو اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور انہیں بادشاہت بھی دے دی لیکن وہ بادشاہت کے متمنی نہیں تھے وہ تو جس چیز کی خواہش رکھتے تھے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا تھی لیکن انہیں اللہ تعالیٰ کی رضا بھی ملی اخروی جنتیں بھی ملیں اور خدا کے فضل سے۔اور اس دنیا میں جنتیں بھی مل گئیں۔ہماری جماعت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک حد تک یہ روح پائی جاتی ہے اسی جلسہ سالانہ پر جو اس وقت ہورہا ہے اور بہت سی پریشانیاں بھی نان بائیوں کی وجہ سے اٹھانی پڑی ہے اور مجھے ذاتی طور پر آپ کی تکلیف کی وجہ سے ان دنوں بڑا دکھ بھی سہنا پڑا ہے کہ میرے بھائیوں کو یہ تکلیف پہنچ رہی ہے۔نان بائی تو خیر ہیں ہی۔اس تکلیف کو آپ اگر علیحدہ رکھیں تو اس جلسہ کا انتظام اتنی خوش اسلوبی سے انجام پاتا ہے کہ دنیا محو حیرت ہے اور یہاں رضا کارانہ کام کرنے والے سینکڑوں ہیں ان رضا کارانہ کام کرنے والوں میں ۲۴ وہ ہیں جو بی اے یا اس سے اوپر کی رکھتے ہیں ماشاء اللہ اور ۸۱۱ وہ ہیں جو میٹرک پاس ہیں۔تو ہزار کے قریب تعلیم یافتہ آدمی ہیں ان میں سے کوئی روٹیاں ڈھو رہا ہے اور کوئی لکڑیاں سنبھال رہا ہے کوئی نان بائیوں کے گرد لگا ہوا ہے۔غرض ہر ایک رضا کارانہ خدمت بجا لا رہا ہے ورنہ یہ جلسہ اور اس کا انتظام ہو نہیں سکتا اور اللہ تعالیٰ نے ہمارے اندر روح اور جذبہ پیدا کیا ہوا ہے۔پھر وقف عارضی ہے کل اس سلسلہ میں نے آپ کو بتایا تھا کہ وقت کے لحاظ سے تقریباً دوسو سال کا کام ہمارے واقفین عارضی کر چکے ہیں یعنی ایک آدمی دوسو سال میں جتنا کام کرسکتا ہے اتنا کام ہو چکا ہے گویا ایک آدمی اگر چوبیس گھنٹے روزانہ دو سو سال تک کام کرتا رہے تو جتنا کام وہ کر چکا اتنا کام انہوں نے کر دیا ہے اور پھر سب کام مفت کیا ہے اپنے خرچ پر جاتے ہیں ہاتھ سے روٹی پکاتے ہیں بعض جگہ بعض نے کمزوری بھی دکھائی لیکن ان کا وہ اثر نہیں ہوا اور جنہوں نے ہمت سے کام لیا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے نہ صرف یہ کہ ان کی صحت خراب نہیں ہوئی بلکہ جو خراب صحتیں لے کر گئے تھے ان کی صحتیں اچھی ہو گئیں۔اپنوں پر اور غیروں پر اتنا اثر ہوا کہ جس غرض کے لیے وہ گئے تھے کہ جماعت کی وہ تربیت کریں اور وہ مطالبات جماعت سے پورے کرائیں جو پچھلے دنوں میں نے کئے