خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 15 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 15

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۵ ۲۰ دسمبر ۱۹۶۵ء۔دوسرے روز کا خطا۔اپنے رب سے کہہ سکیں کہ اے ہمارے رب جو کچھ تو نے ہمیں دیا تھا وہ ہم نے تیرے قدموں میں لا ڈالا ہے اس سے زیادہ ہم کچھ نہیں کر سکتے اب تیرا ہی کام ہے کہ تو ہمیں کامیاب و کامران کرے۔جب انسان اپنی ساری طاقت خرچ کر دیتا ہے تو خدا تعالیٰ کی غیرت جوش میں آتی ہے اور وہ اپنے بندوں کو کامیابی عطا فرما دیا کرتا ہے غرض صدرا انجمن احمد یہ کے سپر د ایک عظیم کام ہے اور اس کی ذمہ داری بہت زیادہ ہے انہیں اس عظیم کام اور ذمہ داری کو ادا کرنے کی طرف توجہ کرنی چاہئے اور اپنے ماتحت کام کرنے والے اداروں اور افراد کو محبت اور پیار کے ساتھ ان کی ذمہ داری سمجھانی چاہئے اور ان کے کام کی نگرانی کرنی چاہئے یہ صحیح ہے کہ جو کام خلیفہ وقت کا ہے وہ ایک صدرا انجمن تو کیا ہزار صدرا انجمن بھی نہیں کر سکتی اس کی میں ایک موٹی مثال دیتا ہوں۔صدر انجمن احمدیہ نے کام کرنے والے مہیا کرنے کے لئے صدہا اپیلیں کیں لیکن جماعت کی طرف سے انہیں کوئی کارکن نہیں ملا الا ماشاء اللہ لیکن خلیفہ وقت کی اپیل پر درجنوں نہیں سینکڑوں آدمی کھڑے ہو گئے بلکہ میرا خیال ہے کہ بعض دفعہ خلیفہ وقت کے اپیل پر ہزاروں افراد جماعت میں سے آگے آگئے شدھی کی تحریک اٹھی۔تحریک آزادی کشمیر اٹھی اور اس قسم کے ہزاروں کرائی سز (Crisis) ہماری زندگی میں مسلمانوں اور اسلام پر آئے اور ہنگامی حالات پیدا ہو گئے اور ان سے نپٹنے کے لئے آدمیوں کی ضرورت محسوس ہوئی۔تو خلیفہ وقت کی اپیل پر سینکڑوں نہیں ہزاروں آدمی کام کے لئے نکل آئے۔غرض جو کام خلیفہ وقت کا ہے وہ صدرانجمن احمد یہ اور دوسری تنظیمیں نہیں کر سکتیں لیکن اس کے باوجود اس بات کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جو کام ان تنظیموں کے سپرد کیا گیا ہے وہ تو انہیں ہی کرنا چاہئے اور پھر ان تنظیموں کی وجہ سے جو ذمہ داریاں احباب جماعت پر ڈالی جاتی ہیں۔انہیں ادا کرنا احباب جماعت کا کام ہے ورنہ کام نہیں ہوگا۔اس کی موٹی مثال یہ ہے کہ جماعتوں اور افراد کے ذمہ جو مالی قربانی لگائی گئی ہے اور انہیں کہا گیا ہے کہ وہ اپنی آمد کا کم سے کم سولہواں حصہ جماعت کے کاموں کے لئے ادا کریں پہلے پہل یہ چندہ حضرت مسیح موعود نے مقررفرمایا تھا پھر جماعت کے نمائندوں نے اس کے متعلق خود فیصلے کئے تھے لیکن انہی چندوں کے بقایہ جات صرف پاکستان کی جماعتوں کے ذمہ غالباً تمیں لاکھ روپیہ کے ہیں۔اگر یہ بقائے ادا کر دیئے جاتے تو جماعت کا کام کہیں کا کہیں تک پہنچ جاتا اگر کوئی بقایا دار یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنا بقایا ادا