خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 14
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۴ ۲۰ / دسمبر ۱۹۶۵ء۔دوسرے روز کا خطا۔لے لو اس میں پانی کی کمی کا ایک سبب یہ بھی تھا۔جب کہ محاذ جنگ کے قریب جو نہریں تھی اُن کو حفاظتی نقطۂ نگاہ سے ہر وقت بھرے رکھنے کی ضرورت تھی اور اس طرح ہماری فصلوں کو نقصان پہنچا بہر حال ہمارے ہر شعبہ زندگی پر ان ہنگامی حالات کا اثر پڑا حالانکہ یہ جنگ جس کی وجہ سے وہ حالات پیدا ہوئے ایک چھوٹا سا ہنگامہ تھا صرف سترہ دن کی جنگ تھی۔اب کجا یہ بات اور کجا یہ بات کہ دنیا کے سارے ممالک میں ایک رُوحانی انقلاب پیدا کرنے کی ذمہ داری ایک چھوٹی سی جماعت پر ڈالی جاتی ہے ایک ملک نہیں دو ملک نہیں ، پھر ایک زبان بولنے والے ملک نہیں دو زبان بولنے والے ملک نہیں بلکہ ہزاروں زبانیں بولنے والے ملک ہیں، پھر اُن کی تہذیب اور اُن کی عادتیں مختلف ہیں ، اُن کے سوچنے اور فکر کے طریق مختلف ہیں، اُن کے کھانے کے طریق مختلف ہیں ، اُن کے لباس مختلف ہیں، مذہب کو لیا جائے تو اُن کے مذہب مختلف ہیں، اُن کی عبادت کے طریق مختلف ہیں ، ان سب ممالک میں اُن کے رہنے والوں کی طبیعت کے مطابق ان کی زبانوں پر ہم نے اسلام کو اُن کے سامنے پیش کرنا ہے پھر جیسے کسی کی عقل ہے ویسے ہی ہم نے اُسے سمجھانا ہے تا یہ سب لوگ اسلام کی خوبی کو سمجھ لیں اور اس کی سچائی کو جان لیں یہ عظیم کام ایک ایسی چھوٹی سی جماعت کے سپرد کیا گیا جس کے پاس نہ تو پیسہ ہے اور نہ تعداد، نہ ظاہری سامان ہے اور نہ ذرائع جن کو اختیار کر کے وہ اپنے فرض سے سبکدوش ہو سکے۔ایک عظیم انقلاب پیدا کرنا اس جماعت کے سپرد ہے اگر ہم سوچیں تو کیا ہم رات کو ایک لمحہ بھی سو سکتے ہیں اس عظیم کام کو پورا کرنے کے لئے جو ہمارے ذمہ ڈال دیا گیا ہے ، ہمیں تدابیر اختیار کرنا ہیں منصوبے بنانے ہیں ، وسائل ڈھونڈنے ہیں اور پھر کام کرنے والے تیار کرنے ہیں ان کا موں کے کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے ہمیں فرشتے تو نہیں دیئے کہ وہ تمام ملکوں میں پھیل جائیں اور اسلام کی اشاعت کریں ، ہمارے ہی بچوں کو اپنا ملک اپنے والدین اپنے اقارب اور دوست چھوڑ کر باہر نکلنا ہے اور اشاعت اسلام کا کام کرنا ہے یہ کام ضرور ہو گا اور اس میں ناکامی اس لئے نہیں ہوگی کہ خدا کی تقدیر کہ رہی ہے کہ یہ کام ہو کر رہے گا لیکن اس کے ساتھ ساتھ خدا تعالیٰ ہم سے یہ توقع بھی رکھتا ہے کہ جس حد تک ہمیں توفیق ہے ہم اپنے اموال خرچ کریں جس حد تک ہمیں طاقت ہے ہم اپنی جانیں اور عزتیں اس کے لئے قربان کریں ہم اپنے بچوں کو اس غرض کے لئے وقف کریں یہاں تک کہ ہم