خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 213
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۱۳ ۱۲/جنوری ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطاب دلائل کے ساتھ اس صلیب کو توڑ دوں جس نے مسیح کی ہڈیوں کو تو ڑا اور آپ کے جسم کو زخمی کیا تھا۔اس بات کا اس کی طبیعت پر اتنا اثر ہوا کہ وہ کہنے لگا مجھے حوالہ دکھاؤ۔یہ بھی ان کی عادت ہے کہ کسی اور کی طرف بات منسوب کرنی ہو تو آپ کے پاس حوالہ ہونا چاہئے۔یہ ثابت کرنے کے لئے کہ واقعی اس نے یہ بات لکھی ہے۔اللہ تعالیٰ کا تصرف ایسا تھا کہ ہم اپنے ساتھ کچھ حوالے لے گئے تھے ان میں یہ حوالہ بھی تھا اور اس کا انگریزی میں ترجمہ بھی ہوا ہوا تھا۔چنانچہ میں نے اس کو وہ حوالہ دکھایا۔کہنے لگا میں اسے نقل کرتا چاہتا ہوں۔میں نے کہا ضرور نقل کرو۔بعد میں اس اخبار نے جو اسلام کے حق میں ایک لفظ بھی نہیں لکھتا تھا اس نے اپنا ایک پورا کالم اس انٹرویو پر لکھا اور اس کے آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وہ اقتباس نقل کیا جو وہ لکھ کر لے گیا تھا کہ انہوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اس غرض کے لئے مبعوث کیا ہے۔اور میں گو اس کے اتنا لمبا لکھنے پر بھی خوش تھا لیکن خوشی مجھے اس بات سے ہوئی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک فقرہ اس اخبار نے نقل کر دیا ہے۔اس اخبار نے جو نوٹ دیا اس میں اس نے یہ بھی لکھا کہ احمدیت اسلام کی ایک اصلاحی تحریک ہے اور اس کا نصب العین دنیا کو قرآن کریم کی حقیقی تعلیم کی طرف واپس لانا ہے اور دنیا کو گذشتہ صدیوں کی بدعات اور غیر یقینی روایات سے پاک کرنا ہے۔اور اس جماعت کے بانی نے خدا کی وحی کے مطابق مسیحیت کا مقابلہ جاری رکھا اور اس برصغیر ( اس ملک ) میں جہاں مسیحی ممالک کی فوجوں اور پادریوں کی مدد سے نو آبادیاں قائم کی گئیں اور مسیحیت کا پرچار کیا گیا۔آپ کی طرف سے مسیحیت کا یہ مقابلہ کیا تعجب انگیز نہیں۔آپ نے اپنی تصانیف میں اپنے آپ کو مسیح قرار دیا ہے جسے خدا نے اس لئے مبعوث کیا تا کہ وہ دلائل اور روحانی اصلاح کے ذریعہ اس صلیب کو توڑے جس نے مسیح کی ہڈیوں کو توڑا تھا۔ہیگ کے ایک دوسرے اخبار نے لکھا کہ ایک سوال کے جواب میں میں نے ان کو یہ بتایا کہ احمدیت کا سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ لوگ اپنے خالق سے زندہ تعلق پیدا کریں کیونکہ اس کے بغیر زندگی بالکل بے ثمر ہے۔اس تعلق کے بغیر ایک انسان کی زندگی ایسی ہے جیسے ایک حیوان یا کیڑے کی۔جس کی زندگی کوئی زندگی نہیں کہلا سکتی۔“