خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 208
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۰۸ ۱۲/جنوری ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطار میں ہمارے ایک سکول کے ہیڈ ماسٹر ہیں۔مجھے لکھا کہ ہمارے پاس فرقان آیا ہوا تھا اور میں اور میری بیوی سفر یورپ کے متعلق ہی باتیں کر رہے تھے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو دیکھ کر ہمارے دل اس کی حمد سے معمور تھے۔بے خیالی میں میں نے سوچ اون on کر دیا۔معلوم ہوتا ہے کہ وہ یہ پروگرام سننے کے عادی تھے۔مجھے پتہ نہیں تھا کہ پروگرام کیا ہے لیکن عین اس وقت اناؤنسر کہہ رہا تھا کہ ہیڈ آف دی احمد یہ کمیونٹی کا انٹرویو براڈ کاسٹ کیا جا رہا ہے۔ہم نے اس پروگرام کو شوق سے سنا اور دماغ میں خیال آیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ میں تیری تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا اور اللہ تعالیٰ نے خود بخود اپنی طرف سے یہ سامان پیدا کر دیئے کہ آج بی بی سی کا پروگرام ساری دنیا کی فضاؤں میں اسی آواز کو پھیلا رہا ہے اور اس کی اشاعت کر رہا ہے اور ہمارے دل خدا تعالیٰ کی حمد سے لبریز ہو گئے۔بڑے جوش میں انہوں نے یہ خط لکھا ہے۔واقعہ تو یہ ہے کہ ہم کمزور ہیں۔ہمارے پاس پیسے بھی نہیں کہ اگر ہم وہ خریدنا چاہتے تو پتہ نہیں اتنے وقت کے لئے وہ کتنے ہزار پاؤنڈ مانگتے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے تصرف ایسا کیا کہ بی بی سی کا نمائندہ آیا اپنی مرضی سے تھا بلکہ پہلے تو میں نے انکار ہی کر دیا تھا۔میں نے کہہ دیا تھا کہ چونکہ تم نے میرے ساتھ وقت مقرر نہیں کیا تھا اس لئے میں تم سے نہیں ملتا لیکن بعد میں خیال آیا کہ خدا تعالیٰ نے تبلیغ کا ایک موقع پیدا کر دیا ہے اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔چنانچہ نہ کرنے کے بعد ( امام رفیق میری نہ لے کر کمرہ سے باہر چلے گئے تھے ) میں نے ان کو پھر بلایا اور امام رفیق کو کہا کہ اس وقت میں ایک ملاقات کر رہا ہوں اس کے بعد وہ آجائیں غرض اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے یہ سامان پیدا کر رہا تھا۔پہلے سوئٹزرلینڈ میں ٹیلی ویژن والوں نے انٹر ویو لیا اور وہ اس ملک میں دکھایا گیا۔پھر جرمنی میں فرینکفرٹ والوں نے انٹر ویولیا اور وہ اس ملک میں دکھایا گیا اور وہاں جو واقف لوگ تھے ان سے پوچھ کر یہ اندازہ لگایا کہ ٹیلی ویژن کی اس خبر کو فرینکفرٹ اور اس صوبہ کے ساٹھ لاکھ آدمیوں نے دیکھا ہے جہاں وہ ٹیلی ویژن دیکھا جاتا ہے۔ساٹھ لاکھ آدمیوں کا ہمارا کم سے کم اندازہ ہے اس علاقہ میں جہاں وہ ٹیلی ویژن اسٹیشن خبریں دتیا ہے انداز ا ایک کروڑ اور سوا کروڑ کے درمیان ٹیلی ویژن سیٹ ہیں ہم نے خیال کیا کہ شاید چالیس فیصدی نے یہ پروگرام نہ دیکھا ہو گو آجکل تو ویسے ہی ٹیلی ویژن کا جنون ہے لیکن کوئی شخص باہر گیا ہوتا