خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 201
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۰۱ ۱۲/جنوری ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطار ہے۔یا یہ خیال ہے کہ ایسا ہو جائے گا۔بہر حال یہ ایک نئی زبان ہے اور اس میں قرآن کریم کا ترجمہ ہو گیا ہے اور وہ دوست خود بھی اسلام کے اتنے قریب آگئے ہیں کہ کہتے ہیں میں دل سے مسلمان ہو چکا ہوں ویسے ابھی میں ظاہر نہیں ہو سکتا۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے تراجم میں ایک اور کا اضافہ کر دیا ہے۔اس طرح سراج الدین کے چار سوالوں کا جواب ،انگریزی زبان میں زیر طباعت انگریزی زبان میں ”دعوۃ الا میر“ کا خلاصہ تیار کیا گیا ہے جو شائع کیا جارہا ہے۔جلسہ سالانہ کے موقع پر باہر سے دوست یہاں آتے رہتے ہیں لیکن اس دفعہ خصوصیت کے ساتھ تین ملکوں سے دوست تشریف لائے ہیں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعوی کیا اور اس کی تبلیغ شروع کی تو قادیان کے رہنے والے اور عزیز ترین رشتہ داروں نے کہا کہ ہم تیری تبلیغ سنیں گے بھی نہیں اور کسی کو بھی سنے نہیں دیں گے۔اسی زمانہ میں دنیا کے پیدا کرنے والے خدا نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کہا کہ میں تیری تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ اپنی قوت اور اپنی بد نیتوں پر بھروسہ کرنے والے ناکام ہو گئے ہیں اور جیسا کہ وعدہ دیا گیا تھا وہ آواز ساری دنیا میں پھیلی اور دنیا کے کناروں تک وہ تبلیغ پہنچ گئی۔اس وقت دنیا کے تین ایسے ملکوں کے نمائندے یہاں موجود ہیں جن ملکوں کے درمیان ہزار ہا میل کا فاصلہ ہے اور ان میں سے ہر ایک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت میں اس لئے سرشار ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ انہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حسین اور احسان کرنے والا وجود دیکھا اور پایا۔وہ دنیا جہاں کا مالک ہے اس نے اپنا وعدہ پورا کر دکھایا اور پورا کرتا چلا جا رہا ہے کام تو اس کے ہیں اور وہ کر رہا ہے اس کی مہربانی ہے ہم پر کہ وہ ہم سے کہتا ہے کہ انگلی کٹوا کر شہیدوں میں داخل ہو جاؤ۔تم تھوڑی سی قربانیاں دو اور ساری کامیابی کا سہرا میں تمہارے سر پر باندھ دوں گا۔اس کامیابی میں سینکڑواں بلکہ ہزارواں حصہ بھی ہمارا نہیں ہوتا مگر وہ پیار کرنے والا ربّ جب کا میابی اپنے فضل سے دیتا ہے تو اس کا کریڈٹ اور اس کا سہر اوہ ہمارے سر باندھ دیتا ہے یہ اس کا فضل ہے کہ وہ قربانیوں کے لئے ہمیں آگے بلاتا ہے۔