خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 165
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۶۵ ۲۸ / جنوری ۱۹۶۷ء۔اختتامی خطاب کوئی شخص آج کھڑا ہو اور کہے کہ آج زمانہ کی یہ ضرورت ہے۔بتاؤ خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس کا کیا حل پیش کیا ہے تو میرے جیسے کئی بندے کھڑے ہو جائیں گے اور کہیں گے کہ آؤ ہمارے پاس۔ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ قرآن کریم نے اس کا کیا حل پیش کیا ہے۔تو سورۃ فاتحہ کے مقابلہ میں سارے صحف آسمانی جو عیسائیوں کے نزدیک ہیں جن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ کم و بیش ستر ہیں۔ان میں سے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے ان شرائط کے مطابق ہم فیصلہ کرنے کے لئے آج بھی تیار ہیں۔لیکن جس بات سے میں ڈرتا ہوں وہ یہ ہے کہ شاید ہی کسی عیسائی کو اس میدان مقابلہ میں آنے کی جرات ہو۔۲۔ایک موقعہ پر عیسائیت کے لاہور کے بشپ صاحب نے آپ ہی ایک دن مقرر کر دیا اور کہا کہ اس دن مسلمانوں کا کوئی عالم اگر وہ واقعہ میں عالم ہے اور جرات اور دلیری اس کے دل میں ہے تو وہ آجائے اور مقابلہ اس بات میں ہو گا کہ معصوم نبی کون ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جب علم ہوا تو آپ نے ان کو لکھا کہ اول تو یہ طریق ہی غلط ہے۔جو آپ نے اختیار کیا ہے۔آپ کو یہ کہنا چاہئے تھا کہ تم ہم سے آکر مقابلہ کر لو۔پھر جب شرائط ہوتیں جو وقت جو دن جو جگہ مقرر ہوتی۔وہاں مقابلہ ہوتا آپ ہی جگہ مقرر کر دی ہے۔آپ ہی دن مقرر کر دیا اور آپ ہی وقت مقرر کر دیا اعلان کر دیا اور یہ آواز سب تک پہنچ بھی نہیں سکتی۔جو تم نے اٹھائی ہے اور بعد میں آپ کہہ دیں گے کہ کوئی میرے مقابلہ میں نہیں آیا۔اس لئے عیسائیت جیت گئی ہے اور اسلام ہار گیا۔یہ غلط طریق ہے۔اور جو موضوع تم نے لیا ہے۔بھی غلط ہے۔اول تو یہ ثابت کر دینا کہ فلاں شخص سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا۔اس کی بزرگی کو ثابت نہیں کرتا۔دنیا میں لاکھوں ایسے لوگ ہیں۔جنہوں نے کبھی چوری نہیں کی کبھی اور اس قسم کی بدیاں نہیں کیں۔اس سے ان کی کوئی بزرگی ثابت نہیں ہوتی۔اس لئے جو عنوان آپ نے انتخاب کیا ہے۔وہ بھی غلط ہے لیکن اب میں تمہیں یہ کہتا ہوں اگر واقعہ میں تم اسلام سے عیسائیت کا مقابلہ کرنا چاہتے ہو۔تو ہم اس کے لئے تیار ہیں۔آپ نے بشپ آف لاہور کی دعوتِ فیصلہ کو منظور کرتے ہوئے ایک بہت زیادہ معقول اور موثر ذریعہ فیصلہ ان کے سامنے رکھا اور وہ یہ ہے۔اگر بشپ صاحب تحقیق حق کے در حقیقت شائق ہیں۔تو وہ اس مضمون کا اشتہار دے