خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 164 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 164

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۶۴ ۲۸ / جنوری ۱۹۶۷ء۔اختتامی خطاب حمد کا لفظ ہمارے ترجمہ کرنے والے نے چونکہ استعمال کیا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ سورۃ فاتحہ کے معارف ہماری بائبل میں پائے جاتے ہیں۔اس لئے ہمارے لئے یہ ضروری ہوا کہ ہم اس قسم کی دعوتِ فیصلہ میں ایسے لوگوں کو مخاطب نہ کریں۔جو ہماری دعوتِ فیصلہ کو سمجھنے کے بھی قابل نہیں۔اس لئے میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ اس دعوت مقابلہ کے مخاطب تین ایسے پادری۔جو بشپ یا بشپ سے اوپر کا عہدہ رکھتے ہوں۔وہ مل کر اس دعوت فیصلہ کو منظور کریں اور ہمیں اس کی اطلاع دیں۔ہم انہیں سورۃ فاتحہ کے معانی اور اس کی تفسیر اور اس کی خوبی اور اس کی خوبصورتی اور اس میں آسمانی نشان اور تائیدات پائی جاتی ہیں۔ان کے متعلق ایک کتاب میں شائع کر کے بھجوا دیں گے۔پھر وہ اپنی ساری عمر اور اپنی نسلوں کی ساری عمر بھی اس پر خرچ کر دیں اس کتاب کا جواب نہیں لکھ سکیں گے۔اور اگر تین بشپ سر جوڑ کر اس نتیجہ پر پہنچیں کہ ہم اس سر دردی کو کیوں مول لیں تو پھر پوپ اکیلے یا بلی گراہم ( اس لئے کہ وہ آج کل عیسائیت کی تبلیغ میں بڑے تیز ہیں اور اپنی طرف سے بھی کنورشن (Conversion) کر رہے ہیں اور ان کا علمی رعب ایک دنیا پر ہے اور انہیں عیسائی دنیا میں اتنا مقام حاصل ہے کہ وہ اگر امریکہ کے پریزیڈینٹ کو بھی ملنے جائیں تو اسے ان سے ملنا پڑتا ہے اور کافی لمبی گفتگو ان سے کرنی پڑتی ہے اگر یہ چاہیں اور پسند کریں اور ان کے دل میں ہمت ہو تو وہ پھرا کیلے مقابلہ پر آئیں اور اپنے تمام آسمانی صحیفوں کا مقابلہ ہمارے صحیفہ آسمانی کی پہلی اور مختصر سی سورت سورت فاتحہ سے کر کے دیکھ لیں تب انہیں معلوم ہوگا کہ خدا کا ابدی اور نہ بدلنے والا کلام قرآن کریم ہی ہے۔تمام صداقتیں اس میں پائی جاتی ہیں اور ہر قسم کے حملہ سے بیہ محفوظ کیا گیا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہے۔اس میں کوئی لفظی تبدیلی لفظاً واقع نہیں ہوئی اور عملاً بعض تبدیلیاں تفسیر میں واقع ہو جاتی ہیں۔مثلاً نویں صدی ہجری میں بعض مخصوص مسائل تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان مسائل کو حل کرنے کے لئے قرآن کریم کے بعض علوم اس وقت کے بزرگوں کو سکھائے۔اب ان مسائل کا وجود باقی نہیں رہا۔اس میں ہمیں کوئی دلچسپی نہیں لیکن جو ابدی صداقتیں ہیں۔وہ اس میں موجود ہیں اور قائم ہیں اور جو وقت کا تقاضا ہے اسے یہ پورا کرتی ہے۔پھر جس طرح اللہ تعالیٰ کے فرشتے آسمان سے آتے اور اس کی لفظی حفاظت میں لگے ہوئے ہیں۔اسی طرح خدا کے نیک بندے اس کی تفسیر کی حفاظت کرنے والے ہیں۔اس معنی میں کہ اگر