خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 161
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) 171 ۲۸ جنوری ۱۹۶۷ء۔اختتامی خطاب اور بے حیائی کے راستوں پر چلنے کیلئے مجبور کر دیا۔چنانچہ یہ سراج الدین جس کے اوپر سراج الدین کے چار سوالوں کا جواب ہے سنا جاتا ہے کہ یہ اسی قسم کا قصہ تھا۔واللہ اعلم لیکن بہر حال باہر کے ملکوں میں بہت سارے اس قسم کے قصے بھی نظر آتے ہیں تو ہر قسم کا دجل عیسائیت نے استعمال کیا۔اس کے مقابلہ میں اسلام کی یہ حالت تھی کہ پڑھے لکھے مسلمان بھی عیسائیت کے رعب میں آگئے تھے اور یہ سمجھنے لگے تھے کہ قرآن کریم میں کوئی علوم نہیں ہیں۔سب علم انجیل میں اور بائبل میں پائے جاتے ہیں۔اس ماحول میں اس پس منظر میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس لئے مبعوث کیا تھا کہ آپ کسر صلیب کریں اور صلیب کو اس قد ر ز بر دست دلائل اور نشانات آسمانی کے ساتھ توڑ دیں کہ پھر کسی کو صلیب کے حق میں کوئی دلیل دینے کی جرات ہی نہ کرنی پڑے اور ان دلائل کے مقابلہ میں وہ آنے کی۔ہمت نہ رکھتا ہو۔جرأت نہ رکھے۔اس مقصد کا یہ دوسرا حصہ تو اب بھی پورا ہو چکا ہے۔کوئی عیسائی پادری چاہے وہ کتنا بڑا عالم کیوں نہ سمجھا جاتا ہو۔اگر ہمارا کالج میں پڑھنے والا ایک نوجوان اس کے پاس جائے اور اس سے گفتگو کرے اور پہلے ہی فقرہ میں یہ بتادے کہ میں احمدی ہوں اور بات کرنا چاہتا ہوں تو وہ کبھی بات نہیں کرے گا۔اتنا رعب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دلائل نے ان کے دماغوں پر قائم کر دیا ہے۔بہر حال اس وقت اور اس پس منظر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے اور آپ نے دعوئی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ یہ دلائل دیئے ہیں اور عملاً ثابت کیا کہ وہ دلائل دیئے ہیں۔اس سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دعوت فیصلہ بھی دی ہے اور اس میں ایک لطیفہ بھی ہو چکا ہے۔سراج الدین عیسائی نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس جو چار سوال بھیجے تھے۔ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ آپ خود مانتے ہیں کہ بائبل ایک الہامی کتاب ہے اور آپ یہ بھی مانتے ہیں کہ ہر الہامی کتاب توحید خالص کی تعلیم دیتی ہے تو بائبل کے بعد قرآن کریم کی کیا ضرورت ہے؟ جب بائبل مذہبی ضروریات کو پورا کرنے والی ہے اور وہ مذہبی مسائل کا حل الہام کے ذریعہ کرتی ہے تو بائبل کے بعد قرآن کریم کی کیا ضرورت ہے۔اس کا جواب دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ تم بائبل کا ذکر نہ کرو۔وہ بھلا قرآن کریم کا کیا