خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 142 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 142

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۴۲ ۲۸ / جنوری ۱۹۶۷ء۔اختتامی خطاب سیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ہی ذات ہے اور دوسری طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے آقا اور مطاع کے رنگ میں رنگین ہو کر جس طور پر جس رنگ میں اپنے رب کے دعائیں کیں۔اس کا نقشہ اپنے ایک شعر میں یوں کھینچتے ہیں۔بنالم بردرش زاں ساں کہ نالد بوقت وضع حملے بار دارے (حجۃ اللہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۴۹) آپ فرماتے ہیں کہ جب میں اپنے خدا کے حضور جھکتا ہوں دنیا کی حالت اور اپنی بے بسی کو دیکھتے ہوئے اس سے اس کی مدد کا طالب ہوتا ہوں تو میری حالت ویسی ہی ہوئی ہے جیسی کہ بچہ کی پیدائش کے وقت ایک عورت کی ہوا کرتی ہے اور یہی وجہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کی نصرتیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے زیادہ آپ پر نازل ہوئیں اس سلسلہ میں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض اقتباسات آپ دوستوں کو پڑھ کے سنانا چاہتا ہوں آپ فرماتے ہیں: ” در حقیقت لوگوں نے اس خیال سے کہ کسی طرح لَوْ تَقَوَّل کے نیچے مجھے لے آئیں۔منصوبہ بازی میں کچھ کمی نہیں کی۔بعض مولویوں نے قتل کے فتوے دیئے بعض مولویوں نے جھوٹے قتل کے مقدمات بنانے کے لئے میرے پر گواہیاں دیں۔بعض مولوی میری موت کی جھوٹی پیشگوئیاں کرتے رہے۔بعض مسجدوں میں میرے مرنے کے لئے ناک رگڑتے رہے۔۔۔۔۔یہ اس لئے ہوا کہ تا خدا تعالیٰ ہر طرح سے اپنے نشانوں کو مکمل کرے۔میری نسبت جو کچھ ہمدردی قوم نے کی ہے۔وہ ظاہر ہے اور غیر قوموں کا بغض ایک طبعی امر ہے ان لوگوں نے کون سا پہلو میرے تباہ کرنے کا اٹھا رکھا، کون سا ایذا کا منصوبہ ہے جو انتہا تک نہیں پہنچایا، کیا بد دعاؤں میں کچھ کسر رہی یا قتل کے فتوے نامکمل رہے یا ایذا اور توہین کے منصوبے کما حقہ ظہور میں نہ آئے پھر وہ کون سا ہاتھ ہے جو مجھے بچاتا ہے۔“ اربعین نمبر ۳۔روحانی خزائن جلد نمبر۷ اصفحه ۳۹۵،۳۹۴) اسی طرح حقیقۃ الوحی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اس قدرشور اور میرے تباہ کرنے کے لئے اس قدر کوشش اور یہ پُر زور طوفان جو