خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 143 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 143

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۴۳ ۲۸ / جنوری ۱۹۶۷ء۔اختتامی خطاب میری مخالفت میں پیدا ہوا یہ اس لئے نہیں تھا کہ خدا نے میرے تباہ کرنے کا ارادہ کیا تھا بلکہ اس لئے تھا کہ تا خدا تعالیٰ کے نشان ظاہر ہوں اور تا خدائے قادر جو کسی سے مغلوب نہیں ہو سکتا۔ان لوگوں کے مقابل پر اپنی طاقت اور قوت دکھلاوے اور اپنی قدرت کا نشان ظاہر کرے چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔کون جانتا تھا اور کس کے علم میں یہ بات تھی کہ جب میں ایک چھوٹے سے بیج کی طرح بویا گیا اور بعد اس کے ہزاروں پیروں کے نیچے کچلا گیا اور آندھیاں چلیں اور طوفان آئے اور ایک سیلاب کی طرح شور بغاوت میرے اس چھوٹے سے تم پر پھر گیا۔پھر بھی میں ان صدمات سے بچ جاؤں گا۔سو وہ تخم خدا کے فضل سے ضائع نہ ہوا ابلکہ بڑھا اور پھولا ور آج وہ ایک بڑا درخت ہے جس کے سائے کے نیچے تین لاکھ انسان آرام کر رہا ہے یہ خدائی کام ہیں جن کے ادارک سے انسانی طاقتیں عاجز ہیں وہ کسی سے مغلوب نہیں ہوسکتا۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد نمبر ۲ صفہ ۲۶۲ ۲۶۳) اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نزول اسیح “ میں فرمایا: اب یہ لوگ خود سوچ لیں کہ اس سلسلہ کے برباد کرنے کے لئے کس قد رانہوں نے زور لگائے اور کیا کچھ ہزار جان کا ہی کے ساتھ ہر ایک قسم کے مکر گئے یہاں تک کہ حکام تک جھوٹی مخبریاں بھی کیں خون کے جھوٹے مقدموں کے گواہ بن کر عدالتوں میں گئے اور تمام مسلمانوں کو میرے پر ایک عام جوش دلایا اور ہزار ہا اشتہار اور رسالے لکھے اور کفر اور قتل کے فتوے میری نسبت دئے اور مخالفانہ منصوبوں کے لئے کمیٹیاں کیں۔مگر ان تمام کوششوں کا نتیجہ بجز نامرادی کے اور کیا ہوا۔پس اگر یہ کاروبار انسان کا ہوتا تو ضرور ان کی جان توڑ کوششوں سے یہ تمام سلسلہ تباہ ہو جاتا۔کیا کوئی نظیر دے سکتا ہے کہ اس قدر کوششیں کسی جھوٹے کی نسبت کی گئیں اور پھر وہ تباہ نہ ہوا بلکہ پہلے سے ہزار چند ترقی کر گیا۔پس کیا یہ عظیم الشان نشان نہیں کہ کوششیں تو اس غرض سے کی گئیں کہ یہ تم جو بویا گیا ہے اندر ہی اندر نابود ہو جائے اور صفحہ ہستی پر اس کا نام ونشان نہ رہے مگر وہ تم بڑھا اور پھولا اور ایک درخت بنا اور اس کی شاخیں دُور دُور چلی گئیں اور اب وہ درخت اس قدر بڑھ گیا ہے کہ ہزار ہا پرند اس پر آرام کر رہے ہیں۔“ ( نزول مسیح۔روحانی خزائن جلد نمبر ۱۸ صفحه ۳۸۴٬۳۸۳)