خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 130
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۳۰ ۲۷ جنوری ۱۹۶۷ء۔دوسرے روز کا خطا۔تحریک کی تھی کہ جماعت احمدیہ کا بھی فرض ہے کہ وہ دیکھتی رہے کہ کوئی احمدی رات کو بھوکا نہیں سوتا اور میں نے دوستوں کو یہ بتایا تھا کہ صرف توجہ کی بات ہے۔ورنہ ایک احمدی کا پیٹ بھرنے کے لئے ہمیں ایک دھیلہ بھی اپنے خرچ میں زائد نہیں کرنا پڑتا۔اگر ہم واقع میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار کرتے اور آپ کے احکام کی قدر کرتے ہیں تو ہمیں ایک دھیلہ خرچ کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہمارے پیارے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے غریبوں کا خیال رکھتے ہوئے ہمیں یہ نسخہ بتایا تھا کہ اگر تم غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے ہو اور تمہارے گھر میں تین یا چار آدمی کا کھانا پکتا ہے تو تم ایک آدمی کا کھانا آسانی سے اس میں سے نکال سکتے ہو بغیر آٹے میں زیادتی کئے بغیر سالن میں زیادتی کئے تین آدمیوں کا کھانا چار کے لئے اور چار کا پانچ کے لئے کافی ہو جاتا ہے اور اگر تم متوسط طبقہ یا امیر گھرانوں سے تعلق رکھتے ہو تو تم عام رواج کے مطابق اس طور پر کھانا پکا رہے ہوتے ہو کہ جو کھانا تمہارے گھروں میں دو آدمیوں کے لئے پکتا ہے وہ چار کے لئے کافی ہو سکتا ہے اور جہاں چار کے لئے کھانا پک رہا ہے وہاں آٹھ کے لئے کافی ہوسکتا ہے اور جہاں آٹھ کے لئے کھانا پکتا ہے وہ سولہ کے لئے کافی ہوسکتا ہے۔یہ قول درست ہے اور خدا کی قسم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول غلط نہیں ہوسکتا۔تو ہمیں ایک دھیلہ خرچ کئے بغیر ہر احمدی کا پیٹ بھرنے کا طریق ہمارے پیارے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بتا دیا ہے۔یہ مارچ کی بات ہے اس کے بعد حالات جو ہیں غذا کے نقطہ نگاہ سے کافی خراب ہو چکے ہیں۔اس کی وجوہات کیا ہیں اگر کسی شخص پر اس کی ذمہ داری ہے تو وہ کون ہے نہ ہمارا اس کے ساتھ تعلق نہ ہماری اس کے ساتھ دلچسپی کیونکہ ہم ایک مذہبی جماعت ہیں لیکن ہمیں اس بات سے دلچسپی ہے کہ پاکستان میں رہنے والا کوئی فرد بشر بھوکا نہ رہے اور ہمیں اس بات میں دلچپسی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو طریق بتایا ہے اگر اس طریق کو اختیار کیا جائے تو خدا کے فضل سے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل پاکستان کا کوئی فرد بشر بھوکا نہیں رہے گا۔قلت غذا کے وقت جماعتیں یا گروہ یا سیاسی تنظیمیں یا دوسری تنظیمیں یا افراد دو راستوں میں سے ایک کو اختیار کر سکتے ہیں ایک راستہ تو ہے جس کو حزب مخالف کا راستہ کہنا چاہئے یہ لیبل اس پر آسانی سے لگ سکتا ہے وہ فتنہ اور فساد کا راستہ ہے۔حزب مخالف کو اس سے غرض نہیں ہوتی کہ