خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 111 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 111

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ' ۲۷ / جنوری ۱۹۶۷ء۔دوسرے روز کا خطاب لوگ اس جگہ آئیں گے جہاں ہمارا سکول یا مشن واقع ہوگا تو وہاں وہ زیر تبلیغ آتے ہیں تو وہاں وہ احمدی ہو جاتے ہیں چنانچہ بہت سے لوگ گیمبیا کے ذریعہ ، سیرالیون کے ذریعہ اور بعض دوسرے ممالک کے ذریعہ بہت سے لوگ فرانسیسی ممالک سے وہاں پہنچنے کے بعد احمدیت کو اور اسلام کو قبول کر چکے ہیں۔اور اس طرح اللہ تعالیٰ وہاں جماتیں قائم کرنے کے سامان پیدا کر رہا ہے۔نئی بیعتیں کم و بیش پانچ ہزار نئی بیعتیں غیر ممالک میں ہوئی ہیں۔فالحمد للہ علی ذالک ہماری ضروریات جہاں تک تحریک جدید کے کاموں کا سوال ہے ہماری ضرورتیں یہ ہیں اور جماعت پر اس کی ذمہ داری ہے۔جماعت کو سوچ کر شوری کے موقع پر اپنی مجالس عاملہ میں اپنی اپنی جماعتوں کے اندر اور دوسرے مواقع پر ان باتوں پر غور کرنا چاہئے۔یہی وجہ ہے کہ میں یہاں جلسہ عام میں دوستوں کے سامنے یہ باتیں رکھتا ہوں کیونکہ یہ کوئی میری جائیداد نہیں ہے یہ سارے فضل جو اللہ تعالیٰ مختلف رنگ میں مختلف وقتوں میں اور مختلف ممالک میں ہم پر کر رہا ہے وہ ساری جماعت کا اور اکٹھا سب کا ملا جلا ورثہ ہے۔ہم اس میں شریک ہیں اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی رحمتوں سے نوازتا ہے اور اپنی برکتوں میں حصہ دار بناتا ہے۔یہ مشترکہ ورثہ ہے اور مشترکہ ذمہ داری ہے اس کے نتیجہ میں ہم پر مشترکہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔پہلی ضرورت ہے مبلغین کی میں اس تھوڑے سے عرصہ میں جب سے مجھ پر یہ ذمہ داری پڑتی ہے بار بار جماعت کو اس طرف متوجہ کر رہا ہوں کہ ہمیں مبلغین زیادہ تعداد میں چاہئیں۔دسویں جماعت کے طالب علم ان کے لئے ہزار راستے آگے دُنیا میں ترقی کرنے کے ہیں اور ان کے لئے ایک راستہ وہ کھلا ہے جو علاوہ دُنیا کی ترقی کے ان کو جنت تک پہنچاتا ہے۔آپ بڑے ظالم ماں باپ ہیں اگر آپ جنت کی طرف جانے والے راستہ پر کھڑے ہو کر اسے کہتے ہیں کہ نہیں اس طرف جا اس راستہ پر نہیں ہم تمہیں چلنے دیں گے۔یا اگر وہ جنت کی طرف جانے والے راستہ کی بجائے کوئی اور راستہ اختیار کرتا ہے تو آپ اس کو سمجھانے کی کوشش نہیں کرتے۔جو لوگ خدا کی راہ میں اپنی زندگیاں وقف کرتے ہیں ظاہری اموال کے لحاظ سے بے شک وہ آپ کو غریب نظر