خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 110 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 110

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) 11 + ۲۷ جنوری ۱۹۶۷ء۔دوسرے روز کا خطار چاہئے اور بڑی کم قیمت رکھی ہے غالباً ایک روپیہ، دورو پے کوئی قیمت نہیں۔دو روپے میں آپ کو مل جائے گا۔۴:۔نئے سکول غانا میں پانچ نئے پرائمری سکول کھولے گئے ہیں اسی طرح وہاں ایک مشنری ٹریننگ کالج بھی کھولا گیا ہے جہاں ہم مبلغین تیار کر رہے ہیں۔اس کالج میں نائیجیریا، غانا، سیرالیون، گیمبیا اور لائبیریا کے طلباء تربیت حاصل کر رہے ہیں اور علم سیکھ رہے ہیں۔سیرالیون میں ”باجے بو کے مقام پر ایک سیکنڈری سکول کھولا گیا ہے۔اس سکول کے کھلنے میں بڑی دقتیں تھیں کیونکہ وہاں کے عیسائی مشنری حکومت پر پورا دباؤ ڈال رہے تھے کہ اس جگہ پہ احمدیوں کی بجائے عیسائیوں کو سکول کھولنے کی اجازت دی جائے اور کافی دیر سے یہ کشمکش جاری تھی۔آخر اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ عیسائیوں کو اجازت ملنے کی بجائے ہمیں احمدیوں کو اجازت مل گئی اور وہاں اب یہ سکول جاری ہو گیا ہے۔الحمد للہ علی ذالک اور اب اس ملک سیرالیون میں ہمارے تین سیکنڈری سکول کام کر رہے ہیں اور ان کی وجہ سے تبلیغ میں وسعت پیدا ہوگئی ہے اور نفوذ بہت بڑھ رہا ہے۔حال ہی میں سابق فرینچ گنی کی سرحد کے قریب سیرالیون میں ایک پرائمری سکول بھی کھولا گیا ہے اور اس سے فائدہ ہمیں یہ ہے کہ جو فرانسیسی علاقے ہیں وہاں چونکہ کیتھولک مشن تھے اور وہ دوسروں کی نسبت زیادہ متعصب ہیں وہ ان ملکوں میں جانے نہیں دیتے تھے تو کچھ تو ان کی دیکھا؟ دیکھی کچھ انہوں نے اس کو Incourage بھی کیا تھا۔وہاں کے مسلمان مولوی بھی بڑے متعصب ہیں اس لئے ان ملکوں میں ہمارے مشن کھلنے میں بڑی دقت ہے لیکن اللہ تعالی سامان پیدا کر رہا ہے کہ وہاں ہماری جماعتیں قائم ہو رہی ہیں اور وہ اس طرح کہ فرانسیسی علاقوں کے ممالک کی سرحد میں ان ممالک سے ملتی ہیں جو کسی وقت انگریزوں کی تحویل میں تھے اور اب آزاد ہیں اور جہاں ہمارے مشن ہیں۔تو وہاں اس قسم کی سرحدیں نہیں جس طرح ہمارے ملک میں واہگہ یا قصور کے آگے حسینی والا کی سرحدیں ہیں بلکہ عام لوگ ادھر ادھر جاتے رہتے ہیں تو اگر ہمارا کوئی سکول یا مشن سرحد پر واقع ہو تو چونکہ ہر روز کوئی نہ کوئی آدمی ادھر سے آتا جاتا رہتا ہے اس لئے جب وہ