خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 103
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۰۳ ۲۷ جنوری ۱۹۶۷ء۔دوسرے روز کا خطا۔--- خیال کرتا ہے کہ اب سال ختم ہو گیا یہ بھی ختم ہو جانی چاہئیں اس کے اندر ایمان نہیں۔میرے ساتھ اب و ہی چلیں گے جو یہ مستقل ارادہ رکھتے ہوں گے کہ ہم نے اب سانس نہیں لینا۔اب ہم خدا کے قدموں میں ہی مریں گے اور جان دیں گے۔“ (الفضل مورخہ ۷ نومبر ۱۹۳۵ء صفحہ ۸ کالم نمبر۲) نومبر ۱۹۳۷ء میں آپ نے یہ فرمایا کہ:۔وو 66 یہ تحریک ابتداء تین سال کے لئے تھی اور یہ تین سال تجربہ کے تھے اور اس کے شروع میں ہی میں نے کہہ دیا تھا کہ یہ نہ سمجھو کہ یہ ختم ہو جائے گی۔( جب کہ دوسرے سال اعلان کر دیا ) بلکہ تین سال کے بعد یہ اس سے بھی زیادہ تعہد کے ساتھ جاری ہوگی اور زیادہ گراں اور بوجھل سکیم پیش کی جائے گی۔(الفضل ۱۸ نومبر ۱۹۳۷ء صفحه ۶ کالم ۴) 66 جنوری ۱۹۳۸ء میں آپ نے فرمایا کہ:۔یا درکھو کہ قربانی وہی ہے جو موت تک کی جاتی ہے پس جو آخر تک ثابت قدم رہتا ہے وہی ثواب بھی پاتا ہے۔اگر کوئی کہے کہ پھر نئے دور کو سات سال تک کیوں محدود رکھا ہے ( جب تین سال گزر گئے تو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اعلان کیا کہ اب میں مزید سات سال کے لئے تحریک جدید کا اجراء کرتا ہوں لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ یہ بند نہیں ہوگی بلکہ جاری رہے گی۔تو ذہن میں فوراً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس نے جاری رہنا ہے تو سات سال کا یہ ایک دور کیوں مقرر کیا اس سوال کا جواب دیتے ہوئے حضور فرماتے ہیں ) تو اس کا جواب یہ ہے کہ قربانیاں کئی رنگ میں کرنی پڑتی ہیں موجودہ سکیم کو میں نے سات سال کے لئے مقرر کیا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ بعض پیشگوئیوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ۱۹۴۲ء سے ۱۹۴۴ء تک کا زمانہ ایسا ہے جس تک سلسلہ احمدیہ کی بعض موجودہ مشکلات جاری رہیں گی اس کے بعد اللہ تعالیٰ ایسے حالات بھی پیدا کر دے گا کہ بعض قسم کے ابتلاء دور ہو جائیں گے۔“ (الفضل ۱۳ جنوری ۱۹۳۸ صفحه ۶ کالم نمبر ۳ ۴۰) حضور نے یہ نتیجہ بعض پیشگوئیوں سے نکالا ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ کونسی پیشگوئیاں ہیں اور وہ کس کی ہیں۔یہاں صرف اتنا بتایا ہے کہ بعض پیشگوئیوں سے یہ پتہ لگتا ہے کہ ۱۹۴۲ء سے ۱۹۴۴ ء تک کا زمانہ ایسا ہے کہ اس کی انتہا تک یعنی زیادہ سے زیادہ ۱۹۴۴ء تک بعض روکیں قائم رہیں گی۔یہ تو ایک پیشگوئی ہے۔دوسری پیشگوئی یہ ہے کہ ۱۹۴۵ء میں وہ روکیں دور ہو جائیں گی اور یہ دوسری