خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 91
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۹۱ ۲۷ / جنوری ۱۹۶۷ء۔دوسرے روز کا خطا۔جس وقت کوئی ملک پورا احمدی ہو گیا تو وہ کہے گا کہ نظام ہمارے ہاتھ میں دو یا ہمارے مقابلہ میں قربانیاں دو دوسرے روز کا خطاب جلسہ سالا نہ فرموده ۲۷ /جنوری ۱۹۶۷ء بمقام ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔دوست جانتے ہیں کہ آج کی تقریر میں بعض عام قسم کے لیکن ضروری معاملات کے متعلق کچھ کہا جاتا ہے کسی خاص عنوان کے ماتحت آج کی تقریر نہیں ہوتی بلکہ اہم واقعات اور مسائل کے متعلق جو دوران سال ہوئے ہوں یا ان سے تعلق رکھنے والے ہوں ان مسائل کا اور حالات کا جائزہ لیا جاتا ہے لیکن قبل اس کے کہ میں وہ باتیں بیان کرنا شروع کروں جو میں اس وقت کہنا چاہتا ہوں لیکن ایک زائد بات کہنے پر مجبور ہوا ہوں اور وہ یہ کہ کچھ عرصہ سے ہمارے ان بھائیوں نے جو عہد بیعت توڑ کر غیر مبائعین کہلائے گند اُچھالنے میں بڑی شدت اختیار کر لی ہے۔حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد انہوں نے ایک کتاب فتح حق“ کے نام سے شائع کی اس میں انہوں نے نہایت ہی اشتعال انگیزی اور گندہ دہنی سے کام لیا۔ان کے بعض اکا برگزشتہ گرمیوں میں مجھے ایک مقام پر ملے تھے میں نے انہیں بتایا کہ آپ لوگوں نے ایک کتاب لکھی ہے اور آپ اسے دنیا میں شائع کر رہے ہیں۔اب ہمیں بھی اس کا جواب دینا ہو گا اس لئے آپ کو اس کے متعلق کوئی گلہ نہیں پیدا ہونا چاہیئے لیکن آپ تسلی رکھیں کہ جو گند آپ میں تھا وہ اس کتاب میں ظاہر ہوا ہے۔ہمارے اندر اللہ تعالیٰ کے فضل سے کوئی گند نہیں ہے اس لئے ہماری طرف سے اس کا جو جواب شائع ہو گا اس میں کسی گند کا استعمال نہیں کیا جائے گا بلکہ نہایت شرافت کے ساتھ نہایت متانت کے ساتھ عقلی دلائل کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کی فعلی شہادت کے ساتھ آپ کی باتوں کا جواب دیا جائے گا۔چنانچہ اس کتاب یعنی ”فتح حق کے جواب میں ہماری طرف سے ایک کتاب غلبہ حق کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔